10:37 am
ہیلے ڈینیئل امریکی جاسوس تھا یا بھارتی؟

ہیلے ڈینیئل امریکی جاسوس تھا یا بھارتی؟

10:37 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) 8 جون 1964ء، شام چار بجے کا ذکر ہے، کراچی کے پرانے ہوائی اڈے سے ایک چھوٹا طیارہ Riley 65 ٹیک آف ٹیکسی کے لئے تیار کھڑا ہے، مالک ہیلے ڈینیئل سکاٹ کی منزل بظاہر ایران تھی۔پاکستان کی سول ایوی ایشن سے کلیرنس کے بعد طیارہ ہوا میں پرواز کر گیا۔ پاکستانی اداروں کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب یہ طیارہ ایران جاتے ہوئے اچانک یوٹرن لے لیتا ہے۔طیارے کا کپتان میک لسٹر (Mclister) تھا مگر وہ نائب کپتان پیٹر جان فلبی کے کہنے پر جہاز کا رخ انڈیا کی جانب موڑ دیتا ہے۔ نیچی پرواز کے ذریعے ریڈار سے بھی نکل جاتا ہے۔جہاز کی اصل منزل ممبئی جنوب مغرب میں ہوتی ہے۔ ہوا باز میک لسٹر اور نائب پائلٹ پیٹر جان فلبی ممبئی کی حدود میں داخل ہوتے ہی اپنی نظریں زمین پر گاڑ دیتے ہیں۔ان کی عقابی
نگاہیں کسی سرخ ساڑھی کی تلاش میں تھیں۔ سرخ اور سبز ساڑھی کے ساتھ جینو کاسری نووک (Jeno Csory Novak) اور چارلی گل بینکس جہاز کو ممبئی سے 80 کلومیٹر دور اتار لیتے ہیں۔یہ واقعہ ہوا بازی کی تاریخ میں ’’The Murud Plane Incident‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جہاز کا مالک ڈینئیل سمگلنگ کی آڑ میں بھارت کے لئے جاسوسی کرتا رہا ہے، اس وقت بھی جہازمیں کم از کم 675 قیمتی گھڑیوں اور منشیات کے ساتھ مائل بہ پرواز تھا۔یہ کہانی کسی جاسوسی ناول سے کم نہیں۔ امریکہ کے ایک شریف صنعت کار گھرانے کا شخص سمگلنگ کا نیٹ ورک بنا کر بھارتی حکام کی مدد سے درجنوں ممالک میں اسلحہ، کوکین، ہیرے جواہرات اور منشیات سمیت کئی دوسری قیمتی اشیاء کی سمگلنگ کے ذریعے راتوں رات ایک جہاز کمپنی کا مالک بن بیٹھتا ہے۔بھارت میں وہ دو تین مرتبہ گرفتار ہوتا ہے مگر ہر بار ’’بچ‘‘ نکلتا ہے۔ ایک بار رہائی کے لئے وہ عدالت میں ہی چین کے خلاف جنگ لڑنے کی پیش کش کر بیٹھتا ہے۔یہ پیش کش منظور کی جاتی ہے۔ اچانک اس کی ضمانت ہو جاتی ہے اور عدالت کے حکم سے منجمند اکاؤنٹس بھی کھول دئیے جاتے ہیں۔ مگر بھارت کہتا ہے، وہ جیل توڑ کر بھاگ نکلا، جاتے جاتے جیل کے اوپر سے قیدیوں پر چاکلیٹوں اور سیگریٹوں کی بارش بھی کر دیتا ہے۔تہاڑ جیل کی آٹھ دیواروں کو پھلانگنا کسی انسان کے بس میں نہیں۔ ایک کے بعد ایک دیوار کھڑی ہے۔ ایسا صرف فلموں میں ممکن ہے۔ ڈینیئل سکاٹ غالباَ جیل سے زندہ بچ کر بھاگنے والا اکیلا ہی مجرم ہوگا۔سکاٹ لینڈ یارڈ بھی بھارتی حکام کو خبردار کرتا ہے کہ جہاز میں امریکہ کا بدنام زمانہ اسلحہ اور منشیات کا سمگلر ڈینیئل ہیلے ویلکاٹ جونیئر فلبی کے بھیس میں سفر کر رہا تھا۔درحقیقت آزادی کے بعد انڈیا سونے اور گھڑیوں کے سمگلروں کی پسندیدہ منزل بن گیا تھا۔ پر پیچ پہاڑوں اور وادیوں میںسونا،اسلحہ، سیگریٹس، مشروبات اور گھڑیوں کو پہنچانا مشکل کام نہ تھا۔ اس بارے میں ٹائمز آف انڈیا سمیت کئی عالمی اخبارات میں تفصیلی مضامین شائع ہوئے۔ڈینیئل والکاٹ نے 26 نومبر 1927ء کو ٹیکساس کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اس کے والد جیالوجسٹ تھے اورٹیکساس میں اپنا بزنس بھی چلاتے تھے، بہت بڑا تو نہیں مگر گزارہ چل رہا تھا۔بطور جیالوجسٹ انہیں شہر در شہر پھرنا پڑتا تھا۔ والکاٹ کی زندگی رنگینیوں سے خالی نہ تھی۔ ہر شہر کا اپنا ہی رنگ تھا اور ہر شہر میں نئے نئے لوگوں سے ملاقاتوں نے اس کا حلقہ اثر بہت وسیع کر دیا تھا جس میں امراء بھی شامل تھے اور جرائم پیشہ عناصر بھی۔وہ لوگ بھی شامل تھے جن کی نیکیوں کو دنیا مانتی ہے اور ایسے برے انسانوں سے بھی رابطے تھے جن کا نام سنتے ہی پولیس الرٹ ہو جاتی تھی۔جھوٹ اس کی سرشت میں شامل تھا۔ کسی سے کہتا میرے باپ جج تھے تو کسی کو بتاتا کہ وہ اولیور والکاٹ (Oliver Walcott) کا عزیز ہے۔ یہ وہی اولیور والکاٹ ہیں جنہوں نے امریکہ کے اعلان آزادی پر دستخط کئے تھے۔کسی سے کہتا کہ میرے پاس سی 130جہاز ہے جس میں سعودی عرب بھی جا چکا ہوں۔ لیکن جب جج نے امریکہ میں یہ سوال کئے تو اس نے انکار نہیں کیا، اپنا ہر جھوٹ تسلیم کیا۔بری صحبت نے والکاٹ کو جرائم کی دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔ وہ اس زمانے کا واحد سمگلر تھا جس نے جہاز کمپنی بنائی، طیاروں کی مدد سے انڈیا کے لئے چین کے خلاف جاسوسی کر کے کروڑوں میں کھیلتا رہا۔1950ء کی دہائی میں ڈینیئل گٹھے ہوئے جسم کا مالک ،تیز و طرار نوجوان تھا۔ قد لمبا، سرو کے درخت جیسا۔ وہ کسی اور ہی دنیا کا باشندہ دکھائی دیتا تھا۔اس نے وقت گزاری کے لئے سان فرانسسکو میں ایک نوکری کر لی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران والکاٹ امریکی بحریہ میں شامل ہو گیا،مقصد سمندری حدود کی پہچان کرنا تھا،جرائم کی دنیا کا رکن بننے کے لئے جغرافیہ سے گہری واقفیت لازمی تھی۔جنگ بند ہونے کے بعد اس نے یونیورسٹی آف ورجینیا میں داخلہ لے لیا۔ اعلیٰ تعلیمی صلاحیتیں اسے کہیں بھی پہنچا سکتی تھیں مگر اس کی منزل تو کہیں اور ہی تھی۔ وہ 1946ء سے 1948ء تک وہاں رہا مگر تعلیم سے کوئی سروکار نہ تھا لہٰذا یونیورسٹی سے نکالاگیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران والکاٹ امریکی بحریہ میں شامل ہو گیا۔ مقصد سمندری حدود کی پہچان کرنا تھا۔ جرائم کی دنیا کا رکن بننے کے لئے جغرافیہ سے گہری واقفیت لازمی تھی۔وہ پانچ پانچ سو کلو حشیش ٹرک میں میکسیکو بارڈر پر لے جاتا، وہا ں سے اسے دور دلدل میں پھینک دیتا۔ دلدل اس کی حشیش کا ایک اہم ٹھکانہ تھی۔ حشیش ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچانے کا یہی طریقہ تھا، جس میں وہ کامیاب رہا۔اس حشیش کی آخری منزل مودی کا انڈیا ہوتی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ امریکی بارڈر سکیورٹی فورس کے جوان اس کے پیچھے سائے کی طرح لگے ہوئے ہیں۔جونہی اس نے حشیش پھینکی، سکیورٹی اہل کاروں نے دبوچ لیا۔ چھ سال قید اس کا مقدر بنی۔ کمرہ عدالت میں اس نے دو مرتبہ حشیش سمگل کرنے کا اعتراف کیا۔ایک اندازے کے مطابق وہ اور اس کا گروہ پندرہ کروڑ ڈالر (24ارب روپے) کی اشیا سمگل کر چکا تھا۔ کینیڈا کاایک بڑا بزنس بھی شریک جرم تھا، انکار کے باوجود کینیڈین بزنس مین کو سولہ سال کی سزا ہوئی۔اورگن جیل میں وہ دوسرے قیدیوں کو انسانیت اور رشتوں کا تقدس سمجھاتا رہا۔ ایک جرمن کیمیا دان (Martin Nowtzki) اور کینیڈین بزنس مین ڈاڈز (Dodds) بھی شریک جرم تھے۔ 1960ء کی دہائی میں ڈاڈز کا کاروباری دفتر پولیس سٹیشن کے نزدیک واقع تھا۔وینکوور لان ٹینس کلب کی ممبر شپ بھی اس کے کام آتی تھی۔بعدازاں اس نے والکاٹ کی کمپنی میں سیلز کے شعبے کی ناب صدارت سنبھال لی تھی۔رہائی کے بعد اور اس سے پہلے بھی ڈینیئل نے کئی مرتبہ پاکستان کی سمندری حدود میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی مگر مرتے مرتے بچا، ہر بار میری ٹائم فورس کی نظروں میں آ گیا۔ایک مرتبہ سمندری طوفان میں پھنس گیا، کئی گھنٹوں بعد مشرق وسطیٰ کی جانب نکلنے کا موقع ملا۔ حشیش چھپانے کے لئے جہاز کے فیول ٹینک سے اچھی جگہ کوئی نہ تھی۔ کسی کو شک بھی نہیں گزرتا تھا۔ اس میں چھپائی جانے والی 250 پونڈ حشیش کئی مہینوں کی پرتعیش زندگی کے لئے کافی تھی۔بسا اوقات اسے سال پھیرے میں 12.5ملین پونڈ بچ جاتے۔ اس نے ہوائی جہازوں کی مرمت کی کمپنی بھی بنائی۔ اسے پرانے جہازوں کی خرید وفروخت کے کام میں کافی منافع بھی ہوا۔اپنے جہازوں پر وہ کانگو سمیت کئی ممالک سے مہاجرین اور قیمتی جانوروں کی نقل و حمل بھی کرتا تھا۔ ابتدا میں اس کی سرگرمیاں امریکہ تک محدود تھیں۔ بعد ازاں آدھی دنیا اس کی منزل تھیبحریہ میں رہنے کے بعد وہ کئی زبانوں کا ماہر ہو چکا تھا۔انگریزی تو تھی ہی مادری زبان وہ چینی اور اردو بھی فر فر بول سکتا تھا۔ عربی میں بھی اسے کچھ کچھ مہارت حاصل تھی۔ کچھ ہی عرصے میں وہ پانچ ہزار مربع میٹر پر محیط ایک پرتعیش بنگلے اور سولہ سو ایکڑ پر محیط رنچ کا بھی مالک بن بیٹھا تھا۔ لندن، برلن، تل ابیب، نئی دلی او رپام بیچ اس کے پسندیدہ شہر تھے، یہاں آنا جانا معمول تھا۔والکاٹ نے اونچے گھرانے کی ایک لڑکی پیٹسی برائونی (Patsy Browne) کو پسند کر لیا اور اسی سے شادی کرلی۔ سکاٹ متلون مزاج آدمی تھا، آج وہ کسی کو ٹوٹ کر چاہتا تو اگلے ہی دن وہ اس کی نظروں سے اتر جاتا۔پیٹسی اس کا پہلا پیار تھی، اس کے ساتھ بھی اس کا رویہ دوسروں سے الگ نہ تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں وہ بھی اس کے دل سے اتر گئی۔ جب پیار کا بھوت اترا تو وہ کسی اور کو چاہنے لگا۔ اس کے نزدیک خون کے رشتوں کی حیثیت ’’پانی‘‘ جیسی تھی۔ پیٹسی کے لئے شادی کسی معمہ سے کم نہ تھی۔ وہ کہاں جاتا ہے، کس سے ملتا ہے، کیا کرتا ہے؟ اس کے ساتھ کمرے میں رہنے والی پیٹسی برائونی بھی بے خبر تھی۔طویل عرصے تک وہ اسے پین امریکن کا پائلٹ سمجھتی رہی۔ اس نے پین امریکن بطور سٹیورڈ جوائن ضرور کی تھی مگر تھوڑے ہی عرصے میں اس کام سے بھی اس کا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔شادی کے پانچ سال بعد پیٹسی کو پتا چلا کہ اس کا میاں جہاز کمپنی کا مالک ہے، جب اس نے ’’ٹرانس اٹلانٹک ایئر لائن‘‘کے نام سے ایک فریٹ کمپنی بنائی۔1962ء میں وہ انڈیا کی نظروں میں آ گیا جب والکاٹ ایئر انڈیا کے ساتھ معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ اس نے افغانستان سے انڈیا سامان کی منتقلی کا کام سنبھال لیا۔وہ اس کام کے لئے ڈی تھری اور ڈی سی فور طیارے استعمال کرتا تھا۔ انڈیا اس کا دوسرا گھر تھا، یہاں اس نے مستقل ٹھکانہ بھی بنا لیا تھا۔ اپنے ’’پائپر اپاشی‘‘ (Piper Apache) طیارے میں انڈیا آنا جانا معمول بن گیا۔ اس نے بھارتی ریاستوں کو اسلحہ کی سمگلنگ بھی شروع کر دی۔20 ستمبر 1962ء کی ایک گہری رات تھی۔ دلی پولیس اچانک پوش اشوکا ہوٹل میں داخل ہوئی۔ اشوکا ہوٹل کے اس کمرے سے پولیس کو عام بندوق کے 766 کارتوس ملے۔صفدر جنگ ہوائی اڈے پر کھڑے طیارے میں کارتوسوں سے بھرے 40 ڈبے الگ برآمد ہوئے۔ ہر ڈبے میں 250 کارتوس نکلے۔ والکاٹ کو اسی رات اسلحہ کی سمگلنگ کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔سب ڈویژن مجسٹریٹ دلی این ایل کاکڑ کی عدالت میں مقدمہ چلا۔ جہاز کو قبضے میں لے کر اسے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ اس ہوٹل کے ویٹر بھی جاسوس ہو سکتے ہیں۔ اعلیٰ لوگ اسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔سنگین جرم میں گرفتار ہونے اور سزا پانے کے باوجود اسے رہائی مل گئی۔ 23 اکتوبر 1962ء کو واہگہ بارڈر پار کرنے کی کوشش میں اسے دوبارہ دھر لیا گیا۔اس کے خلاف دوبارہ دلی میں عدالت لگی۔ اب کی بار اس کی حکمت عملی بالکل نئی تھی۔ بھارت چین کے ساتھ حالت جنگ میں تھا۔ اسے چین کے رازوں کی ضرورت تھی۔والکاٹ ممالک کے جذبات سے کھیلنا بھی خوب جانتا تھا۔ اس نے بھری عدالت میں انڈیا کو چین کے خلاف جاسوسی کی پیش کش کر ڈالی۔ اس نے صاف ہی کہہ دیا کہ چین کے خلاف جنگ میں اس کے طیارے حاضر ہیں۔مجسٹر یٹ نے پیشکش پر غور ضرور کیا مگر یہ عدالت کے دائرے سے باہر تھا۔ لہٰذا اسے جیل بھیج دیا گیا۔ پھر وہ ہوا جس پر سب حیران ہیں۔ والکاٹ کی سزا اچانک کم کر دی گئی۔ وہ ڈیڑھ سال جیل میں کاٹ چکا تھا، اس کی باقی سزا ختم کر کے اسی روز 420 ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اسے آناً فاناَ ضمانت پر رہائی مل گئی۔ وہ ٹاٹا کمپنی کا 861 ڈالر کا مقروض تھا۔ اکاؤنٹس الگ منجمند تھے۔ یہ بھی ریلیز کر دئیے گئے۔26 ستمبر 1963ء کی صبح کا وقت تھا۔ انڈین حکومت نے انوکھا موقف اختیار کیا۔ والکاٹ نے اپنے اپاشی طیارے میں کچھ تیل ڈلوایا اور پولیس اہل کار کے سامنے صفدر جنگ ایئرپورٹ پر ٹیکسی کرتا ہوا جہاز لے اڑا۔اس نے ٹیک آف کرتے وقت نیچی پرواز کے دوران تہاڑ جیل کے اوپر سے گزرتے ہوئے چاکلیٹس اور سگریٹوں سے قیدیوں کی تواضع کی۔ انڈین ایئر فورس کے دو ہنٹر ہاکر (Hunter Hawker) طیاروں نے اسے روکنے کے لئے اڑان بھری مگر وہ کہیں کا کہیں جا چکا تھا، ہے نا مزے کی بات۔تہاڑ جیل میں اس کی ملاقات بدنام زمانہ فرانسیسی سمگلر (Jean Claude Donze)سے ہوئی۔ جیل سے نکلنے کے بعد دونوں نے اپنا نیٹ ورک 20 ممالک تک وسیع کر دیا۔ بھارت نے دو سمگلروں کی ملاقات کیوں کروائی یہ تواس وقت کے حکمران ہی جانتے ہیں۔ تہاڑ جیل سے رہائی کے بعد اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی نہ تھی، مگر وہ ڈبل ایجنٹ تھا، سی آئی اے کے لئے کام کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری تھی۔سی آئی اے کو بھی چین کے لئے جاسوس درکار تھا اور یہ کام انڈیا کی مدد سے ہی ہو سکتا تھا۔ لہٰذا اسے کھلی چھٹی مل گئی۔ معلومات دیتا رہا اور ڈالروں میں کھیلتا رہا۔سی آئی اے نے انڈیا میں اس سے کام لیا اور بند کرنے کے لئے بھاری سرمایہ مہیا کیا۔ 1966ء میں وہ سیلون سے انڈیا 32500 ڈالرکے ہیرے سمگل کرتے ہوئے پھر دھر لیا گیا۔اسے جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے کے جرم میں ممبئی کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا۔ لیکن وہ اس مشکل وقت سے بھی بچ نکلا۔ یہ 73 سالہ بدنام زمانہ سمگلر میامی میں اپنی کار سے فرار ہوتے وقت سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔خون میں لت پت لاش کافی دیر تک سڑک پڑی رہی۔ یہ منظربڑا روح فرسا اور ناقابل یقین تھا۔ ایک وقت تھا جب اخبارات اور جرائد کے ٹائٹلز اس کی پرتعیش زندگی کی عکاسی سے بھرے پڑے تھے، کوئی جریدہ اس کے ذکر سے خالی ہوتا، پھر وقت نے کروٹ بدلی۔وہ ہیرو سے زیرو بن گیا، اس کی خون میں لت پت لاش زمین پر پڑی تھی۔ آسمان پر چیل کوئے لاش کو نوچنے کے لئے بے چین تھے، زمین پر کتے بھونک رہے تھے، اسے جانوروں، خاص کر کتوں سے بہت پیار تھا، کئی مرتبہ وہ اپنے فیورٹ کتے کو جہاز کے سفر پر بھی لے جا چکا تھا۔زندگی کی مانند اس کی موت بھی پراسرار تھی۔اخبارات نے بہت کچھ لکھا۔کسی نے کہا کہ دنیا کا بدنام زمانہ سمگلر جان کی بازی ہار گیا تو کسی نے اسے جاسوس کہہ ڈالا۔ کسی اخبار کے نزدیک وہ انڈین ایجنٹ تھا تو کسی کے نزدیک وہ چین کے خلاف امریکہ کا خفیہ ہتھیار تھا۔وہ جو کچھ بھی تھا بلا کا ذہین تھا اور کچھ بھی کر سکتا تھا۔ جنوری میں اس کی موت کے حوالے سے کئی اخبارات اور جرائد نے اس پر مضامین شائع کئے۔

تازہ ترین خبریں