08:33 am
اس چھوٹے آکٹوپس کا زہر ایک منٹ میں 26 افراد کو ہلاک کر سکتا ہے لیکن سیاح اس سےکھیلتے رہے

اس چھوٹے آکٹوپس کا زہر ایک منٹ میں 26 افراد کو ہلاک کر سکتا ہے لیکن سیاح اس سےکھیلتے رہے

08:33 am

آسٹریلیا آئے ہوئے دوبرطانوی سیاح بجا طور پر خود کو خوش قسمت تصور کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں ایک چھوٹے بلیو -رنگڈ آکٹوپس سے بے پروائی سےکھیلتے رہے۔ یہ آکٹوپس اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ ایک منٹ میں 26 بالغ افراد کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔فیس بک کے ایک گروپ میں پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ روز ساؤنڈرز اور جون پاؤل لینن اس زہریلے آکٹوپس سے کھیل رہے ہیں اور اسے اپنی جلد کو چھونے دے رہے ہیں۔انہیں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ اس آکٹوپس کے ایک بار کاٹنے سے وہ درد ناک موت کا شکار ہو جائیں گے۔یہ وونوں سیاح آسٹریلیا میں مچھلیاں پکڑ رہے تھے کہ ایک پیلے ور نیلے دھبوں والا آکٹوپس پکڑا گیا۔انہوں نے اس آکٹوپس سے فاصلہ رکھنے کی بجائے اس سے کھیلنا شروع کر دیا۔یہ دونوں اس زہریلے آکٹوپس کو ہاتھوں سے پکڑ کر لہراتے اور ہنستے رہے۔
یہ دونوں اس زہریلے آکٹوپس کو ہاتھوں سے پکڑ کر لہراتے اور ہنستے رہے۔ روز نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے دو دن تک غروب آفتاب کےحیرت انگیز مناظر دیکھے، ڈولفن دیکھی، انہوں نے مچھلیاں پکڑی اور ایک بلیو رنگڈ آکٹوپس پکڑا۔ یہ دنیا کے خطرناک ترین جانوروں میں سے ایک ہے لیکن انہیں اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔بلیو رنگڈ آکٹوپس آسٹریلیا کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز جانور ہے۔ اس کے چھوٹے سے جسم میں اتنا زیادہ زہر ہوتا ہے کہ 26 بالغ انسانوں کو موت کے گھات اتار سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ آکٹوپس کاٹتا ہے تو انسان کو محسوس بھی نہیں ہوتا لیکن جلد ہی انسان مکمل مفلوج ہوجاتا ہے ۔ اس کےکاٹنے کے چند منٹ بعد ہونٹ اور زبان سُن ہو جاتے ہیں، سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے اور جلد ہی سانس لینے والے عضلات بھی مفلوج ہو جاتےہیں۔اس کے کاٹنے کے بعد شکار بے ہوش ہو جاتا ہے اور اپنا نام پکارے جانے پر جواب نہیں دے سکتا۔ اس آکٹوپس کے جسم پر نیلے دھبے اس وقت نمودار ہوتے ہیں، جب یہ خود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ برطانوی سیاح بھی شدید خطرے میں تھے۔سوشل میڈیا پر صارفین نے اُن کی ویڈیو پر کافی منفی تبصرے کیے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ احمقانہ موت کے قریب سے ہو کر آئے ہیں۔