02:19 pm
بھارتی ریاست اترا کھنڈ کے ضلع اتر کشی میں تین ماہ میں صرف لڑکے پیدا ہوئے

بھارتی ریاست اترا کھنڈ کے ضلع اتر کشی میں تین ماہ میں صرف لڑکے پیدا ہوئے

02:19 pm

نئی دہلی(آئی این پی)بھارت کے ایک ضلع میں پچھلے 3 مہینوں سے کسی لڑکی نے جنم نہیں لیا جبکہ 216 لڑکے پیدا ہو چکے ہیں۔بھارتی ریاست اترکھنڈ میں132 گائوں پر مشتمل ضلع اترکشی میں پچھلے 3 مہینوں کیدوران 216 بچوں نے جنم لیا جس میں ایک بھی لڑکی کی پیدائش نہیں ہوئی۔بھارتی میڈیا نے مقامی انتظامیہ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار جاننے کہ بعد یہ تشویش ناک بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 3 مہینوں کے دوران ایک بھی لڑکی کی پیدائش نہیں ہوئی جس کی وجہ لڑکیوں کا پیدا ہونے سے پہلے قتل ہے۔اترکشی کے مجسٹریٹ اشیش چوہان کا کہنا ہے
کہ مذکورہ گائوں میں اسقاطِ حمل کے ذریعے لڑکیوں کی پیدائش سے پہلے ہی انہیں ختم کر دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں لڑکوں کو کمانے اور اپنا خرچہ خود اٹھانے کی بنا پر اچھا سمجھا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بہت تشویس ناک حد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت میں 1994 میں ایک قانون پاس کیا گیا تھا جس کے تحت لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے قتل کرنے پر پابندی عائد کر کے ان کی نسل کشی کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے مگر ملک میں یہ روایت غیر معمولی طور پر ابھی تک جاری ہے کیونکہ آج تک اس سلیکٹو ابورشن پر کوئی سزا عمل میں نہیں آئی ۔اشیش چوہان نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا، اتر کشی میں اگر کوئی اسقاطِ حمل کا مرتکب پایا گیا تو اسے باقاعدہ قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔واضح رہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں بھارت میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد کافی حد تک کم ہو گئی ہے، بھارت میں 2011 میں ہونے والی آخری مردم شماری کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 1000 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 943 تھی۔

تازہ ترین خبریں