09:18 am
ویتنام کا بنگلا جو اپنے لیونگ روم کے مقبرے کی وجہ سے ملک بھر میں مقبول ہے

ویتنام کا بنگلا جو اپنے لیونگ روم کے مقبرے کی وجہ سے ملک بھر میں مقبول ہے

09:18 am

ویتنام کے صوبے بئن تر  میں واقع ایک  بنگلا ” ٹومب ولا “کےنام سے  مقبول ہے۔دیکھنے میں یہ عام بنگلا لگتا ہے  لیکن اس بنگلے میں جا کر آپ جیسے ہی اس کا سامنے کا دروازہ کھولتے ہیں تو اندر  عام ڈائنگ ٹیبل کی بجائے ماربل سے بنا   ایک مقبرہ دکھائی دیتا ہے۔لیونگ روم کے درمیان قبر ہونا، کسی ڈراؤنی فلم کی کہانی ہو سکتی ہے لیکن ٹان تھاک کمیون  کے ٹومب ولا میں رہنے والے  اس قبر سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ویتنام میں قبرستانوں اور گرجا گھروں کے سوا دوسری جگہوں پر تدفین کی سختی سے ممانعت ہے۔ ا س لیے لوگ بنگلے میں قبر کے ہونے پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔اس بنگلے کی قبر کی کہانی کا آغاز 28 جنوری 1960 کو ہوتا ہے جب  ایک مقامی خاتون ڈانگ تھی نہان نے ایک بیٹی کو جنم  دے کر اس کا نام ٹران تھی کم لین رکھا۔
 
لین غربت میں پلی بڑھی تھیں۔ 18 سال کی عمر میں انہیں ایک مچھلی پکڑنے والی کشتی کے مالک سے محبت ہوگئی۔ تین سال بعد لین اور ان کا شوہر بہتر روزگار کے لیے امریکا چلے گئے۔امریکا میں لین نے ناخنوں اور ہاتھوں کی حفاظت کےلیے مینی کیورسٹ کے طور پر کام شروع کر دیا۔ کچھ عرصے بعد وہ انٹیریر ڈیزائنگ کے کاروبار سے منسلک ہو گئیں۔ اس طرح لین کی زندگی کافی آرام و سکون سے گزرنے لگی۔ وہ ویتنام میں اپنے گھر والوں کو بھی رقم بھیجتیں۔2000 کی دہائی کے شروع میں لین نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ بتدریج واپس اپنے ملک میں بسنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔لین نے اپنے بھائیوں کو کہا کہ وہ اپنے پرانے جھونپڑے کی جگہ پر ایک کشادہ بنگلا بنائیں، تاکہ وہ سب ایک ساتھ رہ سکیں۔بنگلے کی تعمیر کے لیے رقم لین نے ہی فراہم کی۔2006 میں یہ بنگلا مکمل ہوگیا۔ بدقسمتی سے لین کو اس بنگلے میں چند ماہ ہی رہنا نصیب ہوا۔ اس کے بعد انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ لین نے امریکا جا کر علاج کرانے کا فیصلہ کیا۔ جانے سے پہلے لین نے وصیت کی کہ وہ کبھی بنگلے میں نہیں رہیں، اگر اُن کا انتقال ہو جائے تو انہیں بنگلے میں ہی دفن کیا جائے۔10 مئی 2007 کو لین وفات پا گئیں۔ لین کے خاندان نے اُن کی میت امریکا سے واپس لانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے لیونگ روم میں لگے ماربل کو کٹوا کر لین کی قبر بنائی اور اس پر بیش قیمت پتھر لگائے۔ڈانگ تھی نہان کا کہنا ہے کہ یہ بنگلا اُن کی بیٹی کی رقم سے بنا ہے، اس لیے اُنہیں یہاں دفن کرنا چاہیے۔لین کی آخری رسومات میں علاقے کے لوگوں اور حکام نے بھی شرکت کی۔حکام کی موجودگی کی وجہ سے کسی نے اس غیر قانونی تدفین پر اعتراض نہیں کیا۔ لین تب سے ہی اپنے بنگلے میں دفن ہے اور آج کل اس بنگلے میں لین کے سب سے چھوٹے بھائی اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔لین کے سب سے چھوٹے بھائی ٹرا نوان ٹوان کا کہنا ہے کہ اس بنگلے میں رہنا عام گھر میں رہنے کی طرح ہے، انہیں ہر وقت اپنی بہن کی قربت کے احساس سے خوشی ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں