09:26 am
یہ مصنوعی ذہانت ایک سیلفی سے 11 جذبات کا پتا چلا سکتی ہے

یہ مصنوعی ذہانت ایک سیلفی سے 11 جذبات کا پتا چلا سکتی ہے

09:26 am


ہمارے چہرے اور حرکات کا جائزہ لینے والے مشین لرننگ  ماڈل اب  سمارٹ فونز میں فیس انلاک اور اینیموجی جیسے فیچرز سے ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔تاہم مصنوعی ذہانت کے یہ ماڈلز صارفین  کے چہرے کو دیکھ  اُن کے جذبات کا پتا نہیں چلا سکتے۔ یہ کام اب EmoNet کر سکتا ہے۔یونیورسٹی آف کولوراڈو اور ڈیوک یونیورسٹی  کے محققین نے ایسا نیورل نیٹ ڈویلپ کیا ہے جو درستی سے  تصاویر کو 11 جذبات کے لحاظ سے مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے اس ماڈل کی تربیت کرنے کے لیے محققین نے 2187 ویڈیوز استعمال کیں۔ان ویڈیوز  27  مختلف  جذبات، جیسے غصہ، حیرت اور غم،  شناخت کیے جا سکتے تھے۔  محققین کی ٹیم نے  ان ویڈیو سے 137,482 فریمز حاصل کیے۔ان میں سے 1000 ایسی تصاویر کا انتخاب کیا گیا ، جن میں  ہر طرح کے جذبات تھے۔مصنوعی ذہانت کی تربیت کے بعد محققین  نے اپنے نتائج  کی  جانچنے کے لیے 25 ہزار تصاویر استعمال کیں۔
 
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کچھ جذبات جیسے حسرت اور خوف وغیرہ کا تو درست پتا چلا لیتی ہے لیکن یہ کنفیوژن، تحسین اور حیرت کا پتا نہیں چلا سکتی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ جذبات میں چہرے کی خصوصیات ایک سی ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے مطالعوں میں بہت سے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جذبات کی شناخت کے نتائج پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

تازہ ترین خبریں