11:38 am
نام نہاد’جہنم کے دروازے‘ کی سیر کرنے والے نے کیا دیکھا؟

نام نہاد’جہنم کے دروازے‘ کی سیر کرنے والے نے کیا دیکھا؟

11:38 am

’جہنم کے دروازے‘ کی سیر کرنے والے دنیا کے واحد آدمی نے اندر کا حال بتا دیا،آج ہم آپ کو متعارف کروائیں گے ایسی جگہ سے، جسے ”دنیا میں جہنم کا دروازہ“ کہا جاتا ہے۔ترکمانستان میں واقع ایک قدرتی گڑھے میں زمین سے گیس کے اخراج کے باعث گزشتہ 45سال سے آگ جل رہی ہے، اس گڑھے کا درجہ حرارت 1000ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔44سالہ عالمی شہرت یافتہ مہم جو جارج کورونس نے اس گڑھے کی سیر کرنے کے بعد دنیا کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔ جارج اس گڑھے میں 100فٹ نیچے تک گیا اور اس کی سطح پر
 
کچھ دیر تک چلتا بھی رہا، اس نے تپش سے بچانے والا لباس پہن رکھا تھا اور ماسک کے ذریعے آکسیجن لیتا رہا۔جارج دنیا کا پہلا شخص ہے جس نے اس گڑھے کی سیر کی، وہ گڑھے میں تقریباً 15منٹ تک گھومتا رہااور اس نے وہاں سے مٹی کے کچھ نمونے بھی اکٹھے کیے جن کے تجزیئے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ اتنے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود اس جگہ پر بیکٹیریا موجود تھے۔جارج نے کہا کہ گڑھے میں جانے سے پہلے سب کچھ غیر یقینی تھا اور کئی طرح کے سوال تھے کہ یہ گڑھا پیندے میں کتنا گرم ہو گا؟ وہاں موجود ہوا سانس لینے کے قابل ہے یا نہیں؟جن رسیوں کی مدد سے لٹک کر اندر جائیں گے کیا وہ تپش برداشت کر پائیں گی؟اگر رسیاں گرمی برداشت نہ کر سکیں تو نیچے جانے والا شخص کیا کرے گا؟کسی کے پاس بھی ان سوالوں کے جوابات نہیں تھے۔جب میں نے گڑھے کی سطح پر قدم رکھا تو ایک عجیب سا احساس تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی خلائی مخلوق کے سیارے پر آ گیا ہوں۔میں ایک ایسی جگہ پر آ گیا تھا جہاں کبھی کوئی انسان نہیں آیا۔یہ بہت جذباتی کردینے والا کام تھااور خطرناک بھی۔ ترکمانستان کے ”کاراکم“ صحرا میں آتش فشاں کا دہانہ ہے جس میں گزشتہ 40 سال سے مسلسل آگ جل رہی ہے۔ اس آگ کے باعث یہ جگہ نہایت خوفناک لیکن دلچسپ منظر پیش کرتی ہے۔ مقامی افراد اسے ”جہنم کا دروازہ“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ترکمانستان کی حکومت نے اب اس جگہ کو سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔ ترکمانستان میں سالانہ صرف 10, 000 سیاح آتے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس دلکش جگہ کو دیکھنے کے لئے خاصی بڑی تعداد میں لوگ مختلف ممالک سے آئیں گے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ آگ دراصل زیر زمین سے نکلنے والی گیس کے باعث لگی ہوئی ہے۔ 1971ءمیں گیس کے اس کنوئیں میں ”ڈرلنگ“ کے دوران ایک حادثہ ہوگیا تھا، اس وقت ترکمانستان سویت یونین کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ حادثے کے بعد ماہرین نے اس جگہ آگ لگادی کہ زہریلی گیس سے نزدیکی آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ خیال یہ تھا کہ آگ جلد ہی بجھ جائے گی لیکن قدرت کا کرنا یہ کہ آگ اب تک لگی ہوئی ہے۔ 4 سال قبل حکومت نے اس 20 میٹر گہرے اور 60 میٹر چوڑے گڑھے کو مٹی سے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا لہٰذا اب اسے سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا ہے، یہ جگہ دارالحکومت سے قریباً 270 کلومیٹر دور ہے۔ ترکمناستان میں بنا ایک گڑھا سائنسدانوں کی غلطی کی وجہ سے 42 سال سے آگ اگل رہا ہے اور ہزار کوشش کے باوجود سرد ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ 230 فٹ چوڑا یہ گڑھا ترکمانستان کے ایک گاﺅں درویز میں واقع ہے جس کو مقامی افراد” جہنم کا دروازہ“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں سے نکلنے والے شعلے سرد ہونے کا نام نہیں لیتے۔1971 میں یہاں کھدائی کے دوران اچانک زمین بھیٹنے سے ایک گڑھا وجود میں ا?گیا اور اس میں سے متھین گیس خارج ہونے لگی۔ سائنسدانوں نے اس مسئلے کے حل کے طور پر اس گیس کو ا?گ لگا دی۔ ان کا اندازہ تھا کہ شاید چند دنوں میں یہ گیس ختم ہو جائے گی لیکن اس واقعے کو اب 42 سال ہو گئے ہیں اور وہاں ا?گ اس رفتار سے جل رہی ہے جس رفتار سے پہلے دن جل رہی تھی۔ اب یہ گڑھا ایک بڑا سیاحتی مقام بن گیا ہے اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ ” جہنم کا دروازہ“ دیکھنے کےلیے درویز کا رخ کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں