11:09 am
وہ اپنے مالکوں کی بد نصیبی کا سبب بنتا رہا مگر پھر بھی وہ اس کے پیچھے بھاگتے رہے،کوہِ نور ہیرے کے پراسرار رازوں سے پردہ اُٹھ گیا

وہ اپنے مالکوں کی بد نصیبی کا سبب بنتا رہا مگر پھر بھی وہ اس کے پیچھے بھاگتے رہے،کوہِ نور ہیرے کے پراسرار رازوں سے پردہ اُٹھ گیا

11:09 am

کراچی(آئی این پی)آکسفرڈ یونیورسٹی پریس(OUP) کی طرف سے کوہِ نورہیرے کی پر اسرار تاریخ اور دلچسپ انکشافات پر مبنی ایک نئی کتاب شائع کی گئی ہے،اس کتابKohinoor: The story of the World's Most Infamous Diamond کے مصنف ولیم ڈیلرمپل اورانیتا آنند ہیں۔اس کتاب میں سنسکرت، فارسی اور اردو زبان کے ماخذ، جن کا اس سے قبل ترجمہ نہیں ہوا، تفصیلات کے مطابق ہیرے جواہرات کا جدید علم رکھنے والے ماہرین کی دریافتوں کو استعمال کرتے ہوئے کوہِ نور کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان پر اسرار پردوں کو ہٹایا گیا ہے جو دنیا کے اس سب سے مشہور
 
ہیرے کے گرد لپٹے ہوئے ہیں۔کوہِ نور لالچ،لڑائیوں قتل و غارت گری،تشدد، نوآبادیت اورقبضہ کرنے کی کوششوں کی کہانی ہے۔یہ کہانی ، اس ہیرے کی تاریخ کے ان نا معلوم گوشوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے جن کے بارے میں اس سے قبل معلوم نہیں تھا۔اس کہانی میں کوہِ نور کی اُس ایک صدی کا احاطہ کیا گیا ہے ، جب یہ برسوں مغلوں کے مور کے ہم شکل شاندار تاج کا حصہ رہا،نا قابل شناخت حالت میں ایک ملا کی میز پر پڑا رہا،اسے پیپر ویٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہااور اس کے خفیہ مقام کا پتہ چلانے کے لیے عقوبت خانے میں اسے ایذا رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا،ولیم ڈیلرمپل ایک جانے مانے تاریخ دان اور بہت زیادہ پڑھے جانے والے مصنف ہیں جن کی تصانیف میںCity of Djinns, White Mughals, The Last Mughal, Nine Lives اورReturn of a King شامل ہیں۔ان کے متعدد ایوارڈز میں تھامس کک ٹریول بُک ایوارڈ، دی وولفسن پرائز فار ہسٹری، دی ڈف کوپر میموریل پرائز، دی ہیمنگ وے پرائز اوردی ووڈافون/ کراس ورڈ ایوارڈ فار نان فکشن شامل ہیں، انیتا آنند پچھلے بیس سال سے زیادہ عرصہ سے برطانیہ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن صحافی کی حیثیت سے کام کررہی اور انھوں نے بی بی سی پر اہم پروگرام کیے ہیں،ان کی پہلی تصنیف Sophia: Princess, Suffragette, Revolutionary ،مہاراجہ دلیپ سنگھ کی بیٹی کی سوانح حیات تھی، جس کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا،تقریب رونمائی ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی ،جس میں ڈیلرمپل نے کوہِ نور کی ابتدائی تاریخ بیان کی ،جس کا حوالہ قدیم بھارتی تحریروں میں دیا گیا ہے ،مغل ادوار میں یہ کہاں کہاں رہا،نادر شاہ نے اس پر قبضہ کیا اور پھر یہ رنجیت سنگھ کی تحویل میں آ گیا۔ انیتا نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح یہ بیش قیمت ہیراسکھ دربار سے لیا گیا اور تاج برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا،اس سے قبل OUP پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر،امینہ سید نے مصنفین کا تعارف کرایااور کہا کہ یہ کتاب اُس شہرت یافتہ ہیرے کی داستان ہے جس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مالکوں کی بد نصیبی کا سبب بنتا رہا مگر پھر بھی وہ اس کے پیچھے بھاگتے رہے۔انھوں نے کہا " یوں لگتا ہے کہ کوہِ نورمیں تاریخ کے لیے بہت کشش تھی،وہ اسے اپنے ساتھ لیے رہی ،چنانچہ جب اس ہیرے کے بارے میں پڑھتے ہیں جیسا کہ اس کتاب میں بتایا گیا ہے ،آپ ایک مسحور کن ماضی میں گُم ہو جاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں