تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

کائنات کا قدیم ترین ستارہ دریافت


اسلام آباد(نیو زڈیسک) ہماری کائنات لامحدود حیرت انگیزیوں سے بھری ہوئی ہے اور اب ماہرین نے کائنات کے ایک گوشے میں قدیم ترین ستاروں میں سے ایک دریافت کیا ہے جو بگ بینگ کے عمل کے بعد کائنات کی پیدائش کے فوراً بعد وجود میں آیا تھا۔ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ستارہ ساڑھے 13 ارب سال قدیم ہے لیکن ہماری ملکی وے کہکشاں کے پڑوس میں موجود ہے اور اس خبرکا یہ پہلو سب سے حیرت انگیز ہے۔ فلکیات دانوں نے اسے 2MASS J18082002-5104378 B کا پیچیدہ نام دیا ہے اور شاید یہ اب تک ہماری معلومات کے مطابق کائنات کا سب سے پرانا ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کا اہم ثبوت یہ ہے کہ ابتدائی کائنات میں دھاتیں موجود نہیں تھیں اور اس نودریافت ستارے میں ہماری اب تک کی معلومات کے مطابق سب سے کم دھاتیں ملی ہیں۔کائناتی ارتقا کے تحت پہلی نسل کے ستاروں میں دھیرے دھیرے دھاتیں بننا شروع ہوئیں جو ان کے ہولناک اختتام پر پھٹ پڑنے سے پوری کائنات میں پھیلتی چلی گئیں۔ بگ بینگ کے بعد سے جو ستارے بنتے گئے ان کی نسلیں بھی وجود میں آتی گئیں مثلاً ہمارا سورج بگ بینگ سے کائنات کے آغاز کے بعد ایک لاکھویں نسل کا ستارہ ہے اور ہر نسل کے ستاروں میں دھاتوں کی تعداد درجہ بہ درجہ بڑھتی چلی گئی۔اس ستارے میں دھاتوں کی مقدار بہت کم ہے یعنی ہماری زمین پر موجود دھاتوں کی مقدار کا صرف دس فیصد اس بڑے ستارے میں دیکھا گیا۔ اس مشاہدے سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں کی ستاروں کی طشتری (سٹار ڈسک) ہمارے اندازوں سے بھی 8 سے 10 ارب سال مزید پرانی ہے۔ یہ ستارہ کہکشاں کے کنارے پر موجود ہے اور اس کی کمیت ہمارے سورج کے 10 فیصد حصے کے برابر ہے۔اس کی دریافت سے ہمیں پتہ چلا کہ کائنات کے ابتدائی ستارے ضروری نہیں کہ اتنے بھاری بھرکم اور بڑے تھے کہ ان کا تیزی سے خاتمہ ہوگیا بلکہ یہ ستارہ بہت کم مادے سے بنا ہے لیکن اس میں دھاتوں کی مقدار چند گرام تک ہی ہو گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ستارے کو دیکھ کر بہت حد تک ہمیں ابتدائی کائنات اور ستاروں کو جاننے میں بھرپور مدد ملے گی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved