دنیا میں دلچسپ مقامات کے بارے میں اہم معلومات
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری دنیا عجائبات سے بڑھی پڑی ہے جہاں ایک طرف قدرت کی تخلیق کاری ہے تو دوسری جانب انسان کے اپنے ہاتھوں سے بنائی چیزوں کی شاہکاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ دلچسپ معلومات جاننا چاہتے ہیں تو یہ تحریر پڑھیں۔ایفل ٹاورایفل ٹاور 1889ء کو پیرس کی

ایک نمائش کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اس وقت ایفل ٹاور کو مستقل طور پر تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ 1909ء میں ایفل ٹاور کو مسمار کر دیا جانا تھا لیکن پھر اس کو ایک بہت بڑے ریڈیو اینٹینا کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا گیا۔ 2011ء میں ایفل ٹاور پیسے دے کر دیکھے جانے والی دنیا کی مقبول ترین جگہ تھی۔ اس سال تقریباً 6.98 ملین لوگوں نے ایفل ٹاور کی سیر کی۔ درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ایفل ٹاور کی لمبائی 15 سینٹی میٹر تک کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ اگر آپ ایفل ٹاور کے ٹاپ فلور تک جانا چاہتے ہیں تو آپ کو 1,665 سیڑھیاں چڑھنا ہوں گی۔ ایفل ٹاور کو روشن کرنے کے لئے 20 ہزار کے قریب بلب لگائے گئے ہیں۔ ایفل ٹاور کے ڈیزائنر گسٹیو ایفل نے امریکا میں موجود مجسمہ آزادی کے ڈیزائن میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ جب ایفل ٹاور تعمیر کیا گیا اس وقت یہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت تھی۔مجسمہ آزادیمجسمہ آزادی کو مصر کے لئے بنا یا گیا تھا۔ ہر سال 3.2 ملین لوگ مجسمہ آزادی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس مجسمے کے تاج پر موجود سات نوکیلے سپائیکس سات براعظموں اور سات سمندروں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ 1878ء کو پیرس میں ہونے والے عالمی میلے میں مجسمہ آزادی کا سر رکھا گیا تھا۔ 1984ء کو مجسمہ آزاددی کی اصل مشعل کو کاپر کی مشعل سے تبدیل کر دیا گیا تھا جس پر 24 کیرٹ سونے کا لیپ کیا گیا ہے۔ امریکا میں ایک ایسا خاندان موجود ہے جو لیبرٹی آئی لینڈ پر رہتا ہے جہاں مجسمہ آزادی نسب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آسمانی بجلی مجسمہ آزادی سے ہر سال تقریباً 6 سو مرتبہ ٹکراتی ہے۔ مجسمہ آزادی کو تعمیر کرنے کے لئے 5 لاکھ امریکی ڈالر خرچ ہوئے تھے جو کہ موجودہ دور میں 10 ملین ڈالر کے برابر ہیں۔ اگر مجسمہ آزادی کو موجودہ دور میں تعمیر کیا جائے تو اس کی لاگت 1.2 ملین ڈالر ہو گی۔ماؤنٹ ایورسٹ آج تک 5 ہزار سے زیادہ افراد ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیں جن میں 13 سالہ بچہ، ایک نابینا اور 73 سالہ شخص شامل ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے میں تقریباً 65 ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ہر سال ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں تقریباً 4 ملی میٹر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کے راستے میں آپ کو تیز رفتار انٹرنیٹ ملے گا۔ 2005ء میں ایک نیپالی جوڑے نے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کی تھی۔ گوگل میپ پر آپ کو ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کا 360 ڈگری کا ویو بھی ملے گا۔ ایک خاتو ن جس کو چلتی ٹرین سے دھکا دے کر گرا دیا گیا تھا اور اس حادثے میں اس نے اپنی ایک ٹانگ کھو دی، اسی خاتون نے 2013ء میں ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی۔ 1974ء کے بعد 2015ء واحد سال تھا جب کسی نے بھی ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر نہیں کی۔سمندرایک اندازے کے مطابق ایک سمندر کی گہرائی اوسطاً 2.5 میل یعنی 4 کلومیٹر ہوتی ہے۔ ہر سال سمندر میں 6 بلین کلوگرام کچرا پھینکا جاتا ہے جس میں زیادہ حصہ پلاسٹک ہوتا ہے۔ اگر ہم سمندر کی لہروں سے پیدا ہونے والی کائنیٹک انرجی کا صرف 0.1 فیصد حصہ بھی حاصل کر پائیں تو موجودہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پانچ مرتبہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں میں تقریباً 20 ملین ٹن سونا موجود ہے۔ موسم سرما کے دوران نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا میں موجود اٹلانٹک کا کچھ حصہ برف سے جم جاتا ہے اور وہاں کے مقامی لوگ اس پر آئس ہاکی کھیلتے ہیں۔ 70 فیصد آکسیجن جس سے ہم سانس لیتے ہیں سمندروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کا 71 فیصد حصہ مختلف سمندروں پر مشتمل ہے۔ سمندر کی نیچے کی 95 فیصد دنیا اب تک دریافت نہیں کی جا سکی۔ امریکا اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے 1944ء سے 1970ء تک خفیہ طور پر سمندر میں 64 ملین پاؤنڈ نرو اور مسٹرڈ گیس پھینکی اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ 4 لاکھ کیمیکل بم اور 5 سو ٹن تابکاری مادہ بھی پھینک چکا ہے۔ ہر سال سمندر میں 10 ہزار کنٹینرز ڈوب جاتے ہیں جن میں سے 10 فیصد میں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر انسان نے اپنے ماحول کو اسی طرح رکھا تو وہ دن دور نہیں جب سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک موجود ہو گا۔صحرادنیا کا ایک تہائی صحرا پر مشتمل ہے۔ 1979ء کو صحارا میں برف باری بھی ہو چکی ہے۔ چلی کے ایٹاکاما صحرا میں کبھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی اس لئے اس کو دنیا کا سب سے زیادہ خشک حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ گوگل نے صحارا کا سٹریٹ ویو لینے کے لئے ایک اونٹ کرائے پر لیا تھا تا کہ اس کا ویو گوگل میپ میں شامل کیا جا سکے۔ ایران میں واقع لٹ صحرا دنیا کا سب سے گرم علاقہ تصور کیا جا تاہے۔ موجیو صحرا میں ایک سوئمنگ پول بنایا گیا اور جو بھی اس کو تلاش کر لے وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے اور وہ بھی بالکل مفت۔ چھ گھنٹے میں ایک صحرا سورج سے اتنی توانائی حاصل کر لیتا ہے جتنی انسان ایک سال میں حاصل کرتے ہیں۔ برطانیہ کے ایک شخص نے صحارا کو سائیکل پر عبور کرنے کا ریکارڈ 2011ء میں اپنے نام کیا تھا۔ اس نے ایک ہزار 84 میل کا راستہ 13 دن اور 5 گھنٹے میں مکمل کیا تھا۔ نامب نامی صحرا سے متعلق عجیب بات یہ ہے کہ دن میں اس کا درجہ حرارت 60 ڈگری تک بھی پہنچ جاتا ہے اور رات میں صفر ڈگری تک۔گولڈن گیٹ برج دنیا میں گولڈن گیٹ برج سے سب سے زیادہ خود کشیاں کی جاتی ہیں۔ 27 مئی 1937ء کو جب گولڈن گیٹ برج کا افتتاح کیا گیا تو اس کا جشن پورے ایک ہفتے تک منایا گیا۔ گولڈن گیٹ برج کو تعمیر کرنے میں 35 ملین ڈالر لاگت آئی تھی۔ گولڈن گیٹ برج کو تعمیر کرنے کے لئے بنائی جانے والی کیبل اتنی لمبی ہے کہ اس سے دنیا کے گرد تین مرتبہ چکر لگایا جاسکتا تھا۔ ہر دو ہفتوں میں گولڈن گیٹ برج سے کوئی نہ کوئی شخص کود کر خود کشی کر لیتا ہے۔ گولڈن گیٹ برج پر کئے جانے والے رنگ کو ”انٹرنیشنل اورنج“ کہا جاتا ہے۔ اس برج سے خود کشی کرنے والے افراد میں سے آج تک سب سے کم عمر میں خود کشی کرنے والی بچی 5 سال کی تھی۔ 70 کی دہائی میں لوگڈن گیٹ برج سے کود کر خود کشی کرنے والے ایک شخص نے نوٹ تحریر کیا کہ ” میں اس پل پر چلنے کے لئے جا رہا ہوں اور اگر راستے میں کسی ایک شخص نے بھی میری جانب مسکرا کر دیکھا تو میں خود کشی نہیں کروں گا“۔ اگر گولڈن گیٹ برج کو آج تعمیر کیا جائے تو اس کی لاگت تقریباً 1.2 بلین ڈالر ہو گی۔ اس برج کو بنانے میں تقریباً 12 لاکھ میخیں استعمال کی گئی ہیں۔ایمزون جنگل دنیا میں 20 فیصد آکسیجن ایمززون جنگل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ تقریباً پچھلے چالیس سالوں میں ایمزون جنگل کا 20 فیصد حصہ کاٹا جا چکا ہے۔ ایمزون جنگل کا رقبہ ارجنٹائن سے دو گنا زیادہ بڑا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایمزون جنگل کا وجود آج سے 55 ملین سال قبل بھی موجود تھا۔ دریائے ایمزون پرکوئی برج ”پل“ موجود نہیں ہے۔ ایمزون جنگل میں 16 ہزار مختلف اقسام کے 4 سو بلین درخت پائے جاتے ہیں۔ 2008ء کو نورے نے ایمزون کو محفوظ بنانے کے لئے ایک بلین ڈالر کی امداد دی تھی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved