مریخ تک سفر کےلیے خلانوردوں کے ڈی این اے تبدیل کرنے پر غور
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

ایسٹ لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ناسا کے مطابق 2030 کے عشرے میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جاسکے گا لیکن اس کےلیے ناسا کے ماہرین دواؤں کے ذریعے خلائی عملے کا ڈی این اے بدلنے پر غور کررہے ہیں۔ ناسا کے مطابق اس سے انسانی جسموں پر بلند توانائی والے ذرات کے

مضر اثرات مثلاً کینسر سے بچاؤ ممکن ہوسکے گا اور وہ دیگر امراض سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔ناسا کے قائم قام چیف ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر ڈگلس ٹیریئر نے لندن میں ایک کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرکب این ایم این کلینکل ٹرائلز میں شامل ہوگیا ہے جس نے تجربہ گاہ میں چوہوں پر بہت اچھے اثرات ظاہر کیے ہیں۔تاہم ناسا کے طبی ماہرین خلانوردوں کے ڈی این اے میں مزید مثبت تبدیلیاں کرنے کے خواہشمند ہیں جن میں ایپی جنیٹک موڈیفکیشن بھی شامل ہے۔ اس عمل میں ڈی این اے کوڈ تبدیل کئے بغیر جین پڑھنے کا طریقہ بدلا جاتا ہے۔ اس سے مریخی خلانوردوں یا ’مارسوناٹس‘ ایک جینیاتی ہدایت کو بڑھانے اور دوسرے جین کو خاموش کرسکیں گے۔ اس سے جسم میں مدافعت پیدا کرکے کینسر، ڈیمنیشا اور اشعاع سے وابستہ دیگر امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ ناسا کے چیف ٹیکنالوجسٹ نے بتایا کہ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی اہم آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔’ان میں سے بعض طریقوں پر اخلاقی سوالیہ نشانات بھی ہیں اور ان پر ابھی سوچ بچار ہی کی جارہی ہے،‘ ڈاکٹر ڈگلس نے بتایا۔ خلا میں طاقتور کائناتی اشعاع (کاسمک ریز) کی بوچھاڑ ہوتی رہتی ہے جو انسانی جلد کو شدید نقصان پہنچا کر جسم کے اندر بھی گڑبڑ پیدا کرسکتی ہے۔ زمین پر موجود قدرتی برقی مقناطیسی غلاف ہمیں ان خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب ناسا مریخی سفر کےلیے خلا نوردوں کی صحت کا خیال رکھنے والے کئی ایک نظاموں پر بھی کام کررہا ہے جن میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے سسٹم شامل ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved