""" یا اللہ! شہباز شریف مر جائے۔۔۔" وہ وقت جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے سب لوگوں سے اپنی موت کی خصوصی دعا کروائی تھی
  19  اکتوبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے پنجاب میں تعمیراتی منصوبوں کا اعتراف غیر ملکی حکمران بھی کرتے ہیں۔ بڑے بڑے پراجیکٹس کو دیکھ کر ایک تاثر ملتاہے کہ شہباز شریف ایسا سیاسی بنیادوں پر نہیں کررہے بلکہ یہ ان کا کوئی جنون یا شوق ہے جیسے کوئی اپنے گھر کےلئے سوچتا ہے کہ یہا ں ٹی وی لاؤنج ہو گا ، یہاں سٹور ہو گا۔ یہ لان ہوگا ۔ یہ کار پورچ ہوگا ۔اسی طرح وہ اپنے صوبے کےلئے سوچتے ہوں گے کہ یہاں فلائی اوور بنے گا۔یہا ں پل بنایا جائے گا۔ ادھر جگہ پر مارکیٹ ہو گی ۔ یہاں ٹرین کا ٹریک بنے گا وغیر ہ وغیرہ۔ اور پھر ایک بار تہیہ کرنے کے بعد کوئی بھی شخص یا طاقت انھیں اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب راولپنڈی میں میٹر و بس منصوبے کا تعمیراتی کام جاری تھا۔ میٹرو بس کے روٹ کی تعمیر کےلئے مری روڈ موتی بازار کے سامنے موجود سڑک کو کھود ڈالاگیا۔ جس کے نتیجے میں اس راستے کی دونوں جانب قائم سینکڑوں دوکانوں بلکہ پورے مری روڈ کی اطراف میں واقعہ ہزاروں دوکانداروں کا کاروبار ٹھپ ہو کررہ گیا۔ مری روڈ نہ صرف راولپنڈی بلکہ ملک بھر کی چند مصروف ترین شاہراہوں

اور اہم ترین کاروباری مراکز میں سے ایک ہے۔ چنانچہ مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق میں وہاں کی تاجر یونین نے سیاسی اکابرین کی منت ترلہ کر کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کےلئے وقت مانگنے کی درخواست کر دی۔ جیسے تیسے ملاقات کا وقت طے ہوا۔تاجر رہنماؤں کا ایک وفد وزیراعلیٰ شہباز شریف کے پاس ملنے پہنچا تو انھوں نے ملاقات کا مقصد دریافت کیا۔تاجروںنے درخواست کی کہ اس تعمیراتی کام کی وجہ سے ایریا میں کروڑوں روپے کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور ہماری روزی پر بھی لات لگ رہی ہے۔ اور اگر یہ ٹریک بن گیا تو پھر تو ہماری سیل بالکل ہی ختم ہوجائے گی۔میٹرو بس سے اتر کر کون خریداری کےلئے آئے گا اور ٹریک عبور کرکے گاہکوں کا آنا کیونکر ممکن ہوگا۔ شہباز شریف نے پوچھا کہ پھر آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔ مجھے بتائیں کہ اس کا کیا حل ہے۔اس پر تاجروں نے عرض کہ یا تو اس پراجیکٹ کےلئے روٹ بدل دیا جائے یا پھر اس پراجیکٹ کو سرے سے ختم ہی کر دیا جائے۔شہباز شریف نے کچھ دیر توقف کیا کچھ سوچتے رہے اور پھر بولے ۔میرے ساتھ دعا کےلئے ہاتھ اٹھائیں اور جو میں کہتا جاؤں اسے دہراتے جائیں۔سب نے دعا کےلئے ہاتھ اٹھا لیے۔ اور شہباز شریف نے دعا شروع کی اور سب لوگ دعائیہ کلمات دہراتے رہے۔"یا اللہ " سب نے کہا "یا اللہ" "شہباز شریف کو ۔۔ شہباز شریف کو ۔۔جلدی سے ۔۔۔جلدی سے۔۔۔فوراً سے پہلے ۔۔۔فوراً سے پہلے ۔۔۔۔اپنے پاس بلا لے ۔۔۔۔۔۔اس پر تاجر رک گئے اور حیرت سے شہباز شریف کے منہ کی طرف دیکھنے لگے ۔ اور پوچھا۔۔ جناب عالی یہ آپ کیسی دعا مانگنے کا کہہ رہے ہیں؟۔اس پر شہباز شریف نے بڑے پر اعتماد لہجے میں کہا "کیونکہ شاید یہ دعا پوری ہوجائے اور میں مر جاؤں تو ہی یہ پراجیکٹ بند ہو سکتا ہے ورنہ تو ایسی کوئی صورت ممکن نہیں ہے "تاجر خاد م اعلیٰ کہ یہ بات سننے کے بعد منہ لٹکائے واپس آگئے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved