انسانی آنکھ کی بینائی اس قدر تیز ہے کہ وہ، وہ کچھ دیکھ لیتی ہے
  7  دسمبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )کہا جاتا ہے کہ انسانی آنکھ کی بینائی اس قدر تیز ہے کہ وہ، وہ کچھ دیکھ لیتی ہے جو ایک بہترین سے بہترین کیمرہ نہیں دیکھ پاتا۔ تاہم آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بعض افراد کی آنکھوں میں قدرتی ایکسرے بھی نصب ہوتا ہے جو جسم کے آر پار دیکھ لیتا ہے۔سنہ 1987 میں روس میں پیدا ہونے والی نتاشا ڈمینکا بھی ایسی ہی ایک خاتون ہیں جن کی آنکھوں میں ایک نہایت حیرت انگیز اور انوکھی خصوصیت موجود ہے۔ یہ خاتون اپنی آنکھوں سے جسم کے آر پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

نتاشا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 2 قسم کی بینائی ہے۔ ایک عام افراد جیسی ظاہری اشیا دیکھنے والی بینائی اور دوسری وہ بینائی جس سے وہ کسی بھی شخص کے جسم کے اندر جھانک کر اس کی جسمانی صحت کا اندازہ لگا سکتی ہے۔نتاشا کے مطابق ایک بینائی سے دوسری بینائی کی طرف منتقل ہونے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ’میں صرف اس بارے میں سوچتی ہوں اور اس کے ساتھ ہی سامنے موجود شخص کے جسم کے اندر دیکھ سکتی ہوں‘۔تاہم دوسروں کے جسم کا ایکسرے کرنے والی نتاشا خود اپنے جسم کا ایکسرے کرنے سے قاصر ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کی آنکھوں کی یہ صلاحیت صرف دن کے اوقات میں کام کرتی ہے۔نتاشا کے اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے روس کے کئی سائنسی و طبی اداروں نے اس کے مختلف ٹیسٹ بھی لیے۔ایک ٹیسٹ میں اسے 7 بیمار اور 1 صحت مند شخص کے سامنے کھڑا کیا گیا جن میں سے 4 کے بارے میں نتاشا نے بالکل درست بتادیا کہ ان کے جسم کے اندر کیا خرابی ہے۔ایک اور ٹیسٹ میں ایکسڈنٹ کا شکار ایک شخص کے بارے میں نتاشا نے بتایا کہ اس کے جسم کے اندر ہڈیوں کو سہارا دینے کے لیے دھاتی پلیٹیں نصب کی گئی ہیں۔نتاشا کی یہ صلاحیت سامنے آنے کے بعد ایک طرف تو وہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی، دوسری جانب وہ لوگ بھی نتاشا کے پاس آنے لگے جو کسی اسپتال میں جا کر ایکسرے کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved