برطانیہ میں کینسر زدہ بچوں کی مدد کرنے والی 14سالہ طالبہ کو سکول والوں نے ایسی سزا دے ڈالی کہ ہر کوئی حیران
  10  جنوری‬‮  2018     |     دلچسپ و عجیب

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ میں ایک اسکول انتظامیہ کی جانب سے 14 سالہ طالبہ کی سرزنش کی گئی ہے جس نے سرطان کے مریضوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے اپنے سر کے بال منڈوا کر انہیں ایک خیراتی ادارے کو عطیہ کر دیے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسکول انتظامیہ کا کہناتھا کہ مذکورہ طالبہ نے قوانین و ضوابط کو توڑا ۔سنہری زلفوں کی مالک طالبہ نیما بیلڈوین نے ایک خیراتی ادارے کے واسطے مال جمع کرنے کے لیے اپنے بالوں کو منڈوا دیا۔یہ خیراتی ادارہ سرطان کے مریضوں کے لیے وِگوں کی تیاری کے سلسلے میں بالوں کو کام میں لاتا ہے۔ اس موقع پر طالبہ کے جذبے کو سراہنے کے بجائے برطانوی کانٹی کورنوال کے قصبے پینزینس کی خاتون استاد مونٹس پائی نے نیما بیلڈوین کو اسکول کی پالیسی کی مخالفت کی پاداش میں دیگر تمام طلبہ سے علیحدہ کر دیا۔

نیما کی والدہ کے مطابق مطابق کرسمس کے موقع پر اپنی بیٹی کے ارادے کے بارے میں جان کر وہ حیرت زدہ رہ گئیں تاہم اتنی سی عمر میں ایسی سوچ رکھنے پر نیما یقینا ستائش کے قابل ہے۔اسکول کی جانب سے نیما کو تمام طلبہ سے علاحدہ کر دینے پر نیما کی والدہ کو شدید غم وغصہ ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نیما کے بالوں کی لمبائی ایک سینٹی میٹر تک ہونے کا انتظار کیا جائے اس کے بعد اسے اسکول کی کلاس میں واپس آنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ تاہم نیما اور اس کی ماں نے اس فیصلے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔نیما کی والدہ کا کہنا تھاکہ ان کی بیٹی ہمیشہ اچھے نمبر حاصل کر کے اساتذہ کی نظروں میں اونچا مقام رکھتی ہے اور تمام ہی لوگ اسے انتہائی مہذب اور خوب صورت قرار دیتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved