01:20 pm
عدالت نے مریم کوقیدکی سزاسنادی

عدالت نے مریم کوقیدکی سزاسنادی

01:20 pm

خرطوم (ویب ڈیسک)سوڈان میں ایک ہنگامی عدالت نے حزب ِاختلاف کی رہ نما مریم المہدی کو ایک احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہفتہ قید کی سزا سنائی ہے جبکہ پولیس نے پارلیمان کی جانب احتجاجی مارچ کے لیے جمع ہونے والے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔ وہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے۔مریم المہدی حزبِ اختلاف کی جماعت اُمہ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم صادق المہدی کی بیٹی ہیں۔اس جماعت کے ایک اور رہ نما محمد المہدی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مریم اور ان کی بہن رباح کو آج اتوار کو دوسرے افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں اُمہ پارٹی کے دفتر سے احتجاجی ریلی کا آغاز ہونا تھا
مگر جوں ہی اس جماعت کے لیڈر مارچ کی قیادت کے لیے پارٹی کے دفتر میں پہنچے تو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔محمد المہدی کا سابق وزیراعظم کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکار سابق وزیراعظم کی دو بیٹیوں کے علاو ہ ہماری جماعت کے پانچ اور لیڈروں کو بھی گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔ہم ابھی تک رباح اور ان پانچ قائدین کے خلاف عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے جماعت کے دفتر کے باہر اشک آور گیس کے گولے بھی پھینکے تھے اور اس نے مارچ شروع ہونے سے قبل ہی مظاہرین کو منتشر کردیا ۔اب وہ اُم درمان کے دوسرے علاقوں میں احتجاج کررہے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے منتظمین نے ملک میں 22 فروری سے نافذ ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف مارچ کی اپیل کی تھی۔سوڈان میں حکومت کے خلاف 19 دسمبر کو روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور پھر وہ صدر عمر حسن البشیر کے خلاف ایک ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئے تھے۔سوڈانی صدر نے ملک میں دسمبر سے جاری ان احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔انھوں نے غیر مجاز ریلیوں پر پابندی عاید کردی تھی اور بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور ان کی تحقیقات کے لیے خصوصی ہنگامی عدالتیں قائم کردی تھیں۔سوڈانیوں میں گذشتہ برسوں کے دوران میں افراطِ زر کی شرح میں ہوشربا اضافے اور غیرملکی کرنسی کی قلت کے خلاف شدید غیظ وغضب پایا جارہا ہے۔حالیہ مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں سرکاری حکام کے مطابق 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد 51 بتائی ہے۔ان میں طبی عملہ کے ارکان اور بچے بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین خبریں