03:27 pm
بہت ہوچکا ، اب مزید سرحد پار سے حملے برداشت نہیں کرسکتے

بہت ہوچکا ، اب مزید سرحد پار سے حملے برداشت نہیں کرسکتے

03:27 pm

سری نگر/نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا جنگی جنون عروج پر پہنچ گیا پانچ سال میں پہلی بارفوجی تقریب میں شرکت کشمیری میڈیا پر حملہ انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی بی جے پی حکومت نے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے مقبوضہ کشمیر کے اخبارات نے انڈین حکومت کے کریک ڈاون کے خلاف انوکھا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے پہلا صفحہ خالی چھوڑدیامودی نے ایک بار پھر پاکستان کو گیدڑبھبکی دیتے ہوئے کہاہے کہ بہت ہوچکا ہمیشہ کیلئے سرحد پارسے دہشت گرد حملے برداشت نہیں کرسکتے
ادھر کانگریس کی رہنما وجے شانتی نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ مودی دہشت گرد کی طرح لگتے ہیںہر آدمی خوف زدہ ہے کہ مودی کب کونسا بم کس پر پھینک دیںبہوجن سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی کاکہناہے کہ عوام مودی کے ہتھکنڈوں سے محتاط رہیں اترپردیش کے سابق وزیراعلی اکھلیش یادیوکہتے ہیں کہ انتخابی فوائد کیلئے بی جے پی فوج کو سیاست میں گھسیٹ رہی ہے دہلی کی آمرانہ حکومت کو باہر کرنے کا وقت آن پہنچا ہے سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ حکومت کا سازشی منصوبہ بے نقاب ہوگیا سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ کا کہناہے کہ مودی نے دہشتگردوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ۔تفصیلات کے مطابق اتوارکو غازی آبادمیں فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندرمودی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاہے کہ سرحدپارسے انڈیا میں دہشت گردی ہورہی ہے اب بہت ہوچکاہم ہمیشہ کیلئے دہشت گردحملےبرداشت نہیں کرسکتے ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں جب ہمسایہ ہمارادشمن ہو اور اسے سازشیں کرنے میں ہمارے ملک کے کچھ عناصر کی حمایت حاصل ہوتو پھر سکیورٹی فورسز کا کرداربڑااہم ہوجاتاہے ۔دوسری جانب بھارتی ریاست تیلنگانہ کے شہر شمشاد آبادمیں خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی رہنما وجے شانتی نے کہاکہ مودی دہشت گرد لگتے ہیں لوگ خوفزدہ ہیں انہیں پتہ نہیں کہ مودی کب کونسابم پھینک دیں جوکردارمودی کا ہے وہ کسی وزیراعظم کا نہیں ہوسکتا۔ادھر کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے اکثر اخبارات نے پہلے صفحے پر کوئی خبر شائع نہیں کی اور صرف ایک احتجاجی تحریر درج کی کہ بھارتی حکام کا اشتہارات کی فراہمی کے لیے بلا جواز انکار۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وادی کی بھارت نواز انتظامیہ نے 14 فروری کو پلوامہ میں ہونے والے حملے میں 44 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد 2 مقامی اخبارات کو اشتہارات دینے سے انکار کردیا تھا۔بعد ازاں سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ عوامی سطح پر اشہارات پر لگائی گئی پابندی کو مرکز کی جانب سے پریس اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ اختیار کیے گئے جابرانہ رویے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے اخبارات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ جنگجو ایجنڈا ہے سابق وزیراعلی یوپی اوربی ایس پی سربراہ مایاوتی نے مودی پرتنقیدکرتے ہوئے کہاہے کہ عوام ان کے ہتھکنڈوں سے محتاط رہیں۔

تازہ ترین خبریں