07:45 am
صدر ٹرمپ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے. شاہ محمود قریشی

صدر ٹرمپ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے. شاہ محمود قریشی

07:45 am

واشنگٹن: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کو پاکستان کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ انہوں نے دورہ پاکستان کی دعوت بھی قبول کرلی ہے. واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایاکہ دونوں راہنماﺅں کے درمیان ملاقات 3 گھنٹے تک جاری رہی جبکہ اوول آفس میں 40 منٹ کی علیحدہ ملاقات ہوئی‘انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان نشستوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں پہلی نشست دونوں ممالک کے سربراہاں کی ون آن ون ملاقات پر مشتمل تھی.انہوں نے کہا کہ دوسری نشست میں وزیراعظم عمران خان سمیت اعلیٰ سول اور عسکری قیادت جن میں میں بطور وزیر خارجہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) فیض حمید موجود تھے جبکہ امریکا کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ہمراہ ڈائریکٹری سی آئی اے، قائم مقام ڈپٹی سیکرٹری ڈیفنس موجود تھے. انہوں نے مزید بتایا کہ تیسری نشست میں دونوں ممالک کے سربراہان کے ہمراہ ان کے وفود بھی موجود تھے اور تینوں نشستوں میں کھل کر بات چیت ہوئی‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک عظیم ملک، پاکستانیوں کو ایک عظیم قوم اور وزیراعظم عمران خان کو ایک عظیم لیڈر قرار دیا.
وزیر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں پاکستان کے ایک معروف وزیراعظم سے ملاقات کررہا ہوں‘شاہ محمود قریشی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا آغازہے، جبکہ واشنگٹن پر واضح کر دیا گیا ہے کہ اسلام آباد ان سے ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ چاہتا ہے‘انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ماضی سے ہٹ کر مضبوط تعلقات جاہتے ہیں جبکہ انہوں نے وسیع بینادوں پر پاکستان کے ساتھ شرکت داری قائم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سرمایہ کاروں کے ساتھ کئی نشستیں کیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارت میں 20 گنا تک اضافے کی خواہش کا اظہار کیا‘شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک میں تجارت بڑھانے کے امکانات موجود ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت تجارت ناکافی ہے. وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کرلی‘انہوں نے مزید کہا کہ آج کی نشست میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے امکانات بھی ابھرے ہیں. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پہلے بھی بطور وزیر خارجہ امریکی صدور سے ملاقاتیں کرچکاہوں، لیکن امریکا میں مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا واضح اظہار آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اوول آفس میں امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر اور اس کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کیا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا‘شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے.انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکمت عملی جاری رہی تو وہاں ردِعمل ہوگا، کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال پر ہی نہتے عوام ردِعمل دیتے ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ بہتری کا امکان پیدا ہوتا ہے تو خطے کی ترقی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے. انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی سطح پر پہلے بھی نشستیں ہوتی رہیں لیکن آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش کا اتنا برملا اظہار نہیں سنا، جبکہ بہت عرصے سے مسئلہ کشمیر کو ذکر بھی نہیں کیا جاتا تھا‘شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ آج کی نشست میں امریکی اعلیٰ حکام کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کا ذکر بھی زیر غور آیا. انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک خلا موجود تھا اور امریکا میں پاکستان کی لابی ہی موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا گیا اور ناقدین کو تنقید کا موقع ملتا رہا‘ افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے.

تازہ ترین خبریں