02:59 pm
فاروق عبد اللہ نے مسئلہ کشمیر کےحل کےلئے مودی کی درخواست کو خوش آئند قرار دےدیا

فاروق عبد اللہ نے مسئلہ کشمیر کےحل کےلئے مودی کی درخواست کو خوش آئند قرار دےدیا

02:59 pm

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر اعظم عمران خان سےملاقات کے دوران بیان کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ان سے مدد مانگی ہے ، پر جہاں بھارت میں ایک طرف مخالف آوازیں اور میڈیا کا ہنگامہ شروع ہو گیا ہے وہیں پر کچھ بھارتی سیاستدانوں نے اس بیان کا خیر مقدم کرنا شروع کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ خوشی ہوئی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی کو سمجھا ہے اور امریکی صدر سے اس کے حل کےلئے مدد مانگی ہے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ خوشی ہے کہ مودی نے ٹرمپ سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر بات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ جب مودی جی نے ٹرمپ سے ملاقات کی تو انہیں بتایا کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مدد ہو تو یہ اچھا ہوگا۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ مودی جی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں جو پاک بھارت تناؤ کی وجہ ہے۔دوسری جانب ترجمان بھارتی وزار ت خارجہ رویش کمار نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے امریکی صدر کے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کی درخواست پر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کےلئے تیار ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر سے ایسی کوئی بھی درخواست نہیں کی۔ بھارت کا اس بارے میں موقف بارے واضح ہے۔ بھارت ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل پر بات دونوں کے درمیان ہی ہو گی، پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے پہلے بارڈر پار سے ہونے والی دہشتگردی کو ختم کرنا ہو گا، شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلیریشن دونوں مملاک کے درمیان باہمی طور پر مسائل کے حل کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے‘‘

تازہ ترین خبریں