04:32 pm
بورس جانسن کو برقعہ اور پردے کا مذاق اڑانا مہنگا پڑگیا،

بورس جانسن کو برقعہ اور پردے کا مذاق اڑانا مہنگا پڑگیا،

04:32 pm

لندن (نیوز ڈیسک) برقعہ اور پردے کا مذاق اُڑانے پر برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رُکن نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رُکن تن من جیت سنگھ نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے اسلامو فوبک ریمارکس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بچپن سے مجھے بھی منفی ریمارکس کا سامنا رہا ہے
۔جس خاتون کو وزیراعظم جانسن نے لیٹر بکس یا بینک ڈکیت جیسی دکھنے والی کہا تھا، اُس کی تکلیف میں محسوس کرسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بورس جانسن اپنے تحقیر آمیز ریمارکس کی کب معافی مانگیں گے؟ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جناب اسپیکر ، اگر میں پگڑی پہننا چاہتا ہوں، آپ صلیب پہننا چاہتے ہوں،اگر کوئی ٹوپی پہنے ، یا برقعہ یا حجاب اوڑھنے کا فیصلہ کرے، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس پارلیمنٹ کے معزز اراکین کو آزادی حاصل ہے کہ وہ ہمارے حُلیہ سے متعلق توہین آمیز اورانتشار پھیلانے والے بیانات دیں؟ ہم بچپن سے اس بات کا سامنا کر رہے ہیں کہ لوگ ہمیں تحقیر آمیز ناموں سے پُکارتے ہیں، جیسے سر پر تولیہ باندھنے والا، طالبان ، بونگو بونگو سرزمین سے آنے والا۔ایسے میں ہم اُن پریشان حال مسلمان خواتین کا دُکھ اور درد مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں جنہیں بینک ڈکیت یا لیٹر بکس کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بناوٹی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے والی تحقیقات کے پیچھے چُھپنے کی بجائے وزیراعظم اپنے نسلی تعصب سے بھرے اور توہین آمیز ریمارکس پر کب معافی مانگیں گے ؟ کیونکہ اس کی وجہ سے نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے ان جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سکھ رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ وزیراعظم بورس جانسن کنزرویٹو پارٹی میں اسلامو فوبیک تقاریر کی تحقیقات کب کروائیں گے جس کا انہوں نے اور اُن کے چانسلر نے سرکاری ٹی وی پر وعدہ کیا تھا ؟

تازہ ترین خبریں