09:36 am
سبحان اللہ ،روزی گیبریل کے بعد پاکستان آنیوالی  ایک اورغیرملکی خاتون یوٹیوبرنے اسلام قبول کرلیا

سبحان اللہ ،روزی گیبریل کے بعد پاکستان آنیوالی ایک اورغیرملکی خاتون یوٹیوبرنے اسلام قبول کرلیا

09:36 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کاسفرکرنے والی کینیڈین خاتون بائیکرروزی گیبرئیل کے بعد برطانوی خاتون یوٹیوبرایلی کوئن نے بھی اسلام قبول کرلیا۔برطانوی خاتون یوٹیوبرنے اس حوالے سے سوشل میڈیاسائٹ یوٹیوب پرایک ویڈیوشیئرکی جس میں انہوں نے اپنے قبول اسلام کاذکرکیااوریہ بھی کہاکہ اس حوالے سے تفصیلی ویڈیوجلد جاری کروں گی ۔انہوں نے کہاکہ مجھے پچھے دس سال سے دنیاکاسفرکررہی ہوں ۔2سال پہلے میں نے لندن میں اپنی نوکری چھوڑ دی تھی اوراس کے بعد میں نے مکمل طورپردنیاکاسفرکرناشروع کردیا۔انہوں نے اپنی ویڈیومیں کہاکہ
اب میں اسلام کے حوالے سے کچھ بات کرناچاہوں گی میں اگست کے آخری عشرے میں اسلام قبول کیا۔اپنے قبول اسلام کاتفصیلی ذکراپنی اگلی ویڈیومیں کروں گی۔اسلام کی تعلیمات اورسیکھنے میں یوٹیوب نے میری بہت مددکی۔لاک ڈائون کے دوران میں نے اسلام کاتفصیلی مطالعہ کیااوراس میں یوٹیوب نے میری بہت مددکی۔میں نے یوٹیوب پرلوگوں کے قبول اسلام کی بہت ساری سٹوریز دیکھیں۔اوران سے مجھے بہت سی معلومات ملیں۔گزشتہ برس کے آخرتک مجھے اسلام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔میں نے بہت سارے اسلامی ممالک کاسفرکیاجس میں بوسنیا،انڈونیشیاقابل ذکرہیں میں نے وہاں آذان کی آواز سنی جس نے میرے دل پربہت اثرکیا۔میں چونکہ برطانیہ میں پلی بڑھی تومیں نے یہاں اسلام کے خلاف نفرت بھی دیکھی ۔معروف فوڈ چین سب وے نے جب حلال گوشت استعمال کرناشروع کیاتومیں نے سوچاکہ ہمیں حلال گوشت ہی کیوں ضرورت ہے ۔کیونکہ یہ میرے ذہن کی اسلام بارے ساری منفی سوچ کااثر تھااوراسلام کے خلاف میڈیامیں جوکچھ بھی بولاجاتاتھامیں اس پریقین کرلیتی تھی۔اس وقت میں بہت چھوٹی تھی ۔میں اپنے والدکیساتھ چرچ جاتی تھی لیکن میں نے کبھی عیسائیت کوفالونہیں کیا۔میں پچھلے سال اکتوبر2019میں پاکستان گئی تھی۔پاکستان نے اس وقت مجھ پراسلام کے حوالے سے کوئی خاص اثرنہیں چھوڑا۔لیکن پاکستان کی خوبصورتی اوروہاں کے لوگوں کی مہمان نواز ی سے میں بہت متاثرہوئی۔جب میں اسلام آبادمیں فیصل مسجدگئی تواس دن جمعے کادن تھااس وقت مجھے نہیں معلوم تھاکہ جمعے کادن اسلام میں چھٹی کادن ہوتاہےدوستوں نےکہاکہ مسجدمیںچلتے ہیں مجھے دوسرے دروازے سے جہاں خواتین جارہی تھیں وہاں بھیج دیاگیا۔میراخیال تھاکہ میں مسجدکےمرکزی حصے میں جائوں گی کیونکہ اس سے پہلے جتنی بھی مساجدمیں میں گئی عورتوں کومساجدکے اندرجانے کی اجازت ہوتی تھی۔مجھے فیصل مسجدکی ایک بالکونی میں لے جایاگیاجس سے میں کنفیوژ ہوگئی۔یہ نماز کاوقت تھاجومجھے نہیں معلوم تھا۔جس کی وجہ سے میں مسجدکے مرکزی حصےکی جانب نہ جاسکی۔میں بالکونی میں کنفیوژ کھڑی تھی اورسوچ رہی تھی کہ میں مسجدکےمرکزی حصے میںکیوں نہیں جاسکتی ۔مجھے اسلام کے حوالےسے بتایاگیاتھاکہ عورتیں اسلام میں مردوں کے برابرنہیں ہیں مجھے اس وقت اچھانہیں لگ رہاتھامیرے دوست نے بعد میں مجھے بتایاکہ نماز کاوقت تھاجس کے بعد مجھے سمجھ آئی۔اس کے بعد میں مسجدکے مرکزی حصے میں گئی اوروہاں لوگوںکونماز پڑھتے ہوئے دیکھاجس کے بعد میں بہت جذباتی ہوگئی۔اس سے پہلے میں اس قسم کی کوئی چیزنہیں دیکھی۔پاکستان کے بعد میرادل چاہاکہ میں اسلامی ممالک کازیادہ سفرکروں۔اس کے بعد میں سعودی عرب گئی۔میں سعودی عرب جانے سےپہلے بہت نروس تھی کیونکہ دوسرے اسلامی ممالک کی طرح سعودی عرب کے بارے میں بھی انٹرنیشنل میڈیامیں بہت سی منفی باتیں پھیلائی جارہی تھیں ۔سعودی عرب میں میری ملاقات بہت سے اچھےلوگوں سے ہوئی۔سعودی عرب میں نماز نے میری زندگی پربہت گہرااثرچھوڑا ۔نماز کے وقت تمام لوگ اپنے کاروباربندکرکے نماز کےلیے مسجدچلے جاتے ہیں اورسفرکے دوران جب بھی نماز کاوقت ہوتورک کرنماز پڑھتے ہیں۔اسلامی ممالک کے سفرنے میری زندگی پرگہرے اثرات چھوڑے اورمیں نے واپس لندن آکراسلام قبول کرلیا۔