04:33 pm
اترپردیش کے شہر میرٹھ میں خواتین ٹیچرز کو بلیک میل کرکے ان سے مفت کام لیا جاتا رہا

اترپردیش کے شہر میرٹھ میں خواتین ٹیچرز کو بلیک میل کرکے ان سے مفت کام لیا جاتا رہا

04:33 pm


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیچنگ واحد شعبہ ہےجسے خواتین کےلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اور سکولوں کو ایک چائلڈ سنٹرڈ انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے ایک  صاف ستھر اماحول سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تعلیم جیسے کام کو کاروباربنانے والے پیسے کے پجاری گراوٹ کے اس درجے کو پہنچ جاتے ہیں جس کا تصور بھی محال ہے۔ ایسا ہی معاملہ بھارتی ریاست یوپی کے شہر میرٹھ کے ساتھ پیش آیا جہاں دو خواتین اساتذہ کی پرائیویٹ ویڈیو بنا کر انھیںمفت پڑھانے پر مجبور کیا جا تا رہا۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ نجی سکول بھارتی ریاست 
اترپردیش کے شہر میرٹھ میں واقع ہے جہاں سکول کی انتظامیہ نے ٹوائلٹس میں خفیہ کیمرے لگا کر سکول ٹیچرز کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا رکھی تھیں اور ان کے ذریعے بلیک میل کرکے ان ٹیچرز کو بلا معاوضہ پڑھانے پر مجبور کرتی آ رہی تھی۔ سکول کے 52ٹیچرز، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، نے پولیس کو رپورٹ درج کروائی ہے کہ ان کی کئی ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ وہ جب بھی تنخواہ کے لیے مینجمنٹ کمیٹی کے سیکرٹری کے پاس جاتے ہیں، سیکرٹری انہیں ان کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر لیک کرنے کی دھمکی دے کر واپس بھیج دیتا ہے۔ خواتین ٹیچرز کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سیکرٹری اور اس کا بیٹا انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کرتے ہیں۔پولیس کی طرف سے سکول کی انتظامیہ اور سیکرٹری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ سیکرٹری کے بیٹے کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے