04:53 pm
ہزاروں سال پرانامندرجس کی رکھوالی مسلمان کرتے ہیں

ہزاروں سال پرانامندرجس کی رکھوالی مسلمان کرتے ہیں

04:53 pm

مانسہرہ (ویب ڈیسک )تین ہزار سال پرانا ایک مندر صوبہ خیبر پختونخواہ کے مانسہرہ شہرسے تقریباﹰ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر چٹی گیٹی گاؤں میں واقع ہے۔ اس گاؤں میں کوئی ہندو آباد نہیں مگر مقامی مسلمان بھی اس مندر کی رکھوالی کرتے ہیں۔مندر کے قریب رہائش پذیر علی احمد خان اور ان کی اہلیہ نورین خان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے بتایا کہ مقامی افراد کو مندر یا ہندوؤں کی عبادات سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دنیا بھر سے پوجا کے لیے آنے والے ہندوؤں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے،''ہمیں فخر ہے کہ ہمارے علاقے کے
لوگ مذہبی انتشار، ذات پات سے بالاتر ہوکر ہندوؤں کی مذہبی عبادت گاہ کے تحفظ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کا حکومت سے مطالبہ رہا ہے کہ علاقے میں گیس کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ سردی کے موسم میں آنے والی ہندو مہمانوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،'' خوش آئند بات یہ ہے کہ مندر کی دیکھ بھال کے لیے مسلمان بھی چندہ جمع کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔‘‘مندر کی عمارت دو منزلہ ہے۔ گراؤنڈ فلور بنیادی طور پر بند ہے جبکہ بالائی منزل پر ایک ہال ہے اور اس میں تراشا ہوا سفید شیو پتھر موجود ہے، جسے ہندوشیو لنگم کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہندوؤں کے دیگر دیوتا جن میں گنیش دیوتا، شیو دیوتا، نندی جی اور مختلف مورتیوں کے پوسٹر دیوار پر آویزاں ہیں تاہم شیو لنگم ہال کے بیچ میں شیشے کے کمرے میں موجود ہے۔آثار قدیمہ کی تحقیق کے مطابق مندر کے اندر شیو پتھر بہت قدیم ہے۔ مندر کو سن 1830 کی دہائی میں جموں کے راجہ نے عقیدت کے طور پر بحال کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد کچھ لوگوں نے مندر پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد مندر کو سیل کر دیا گیا تھا۔ سن 1998 تک ہندوؤں کو اس مندر تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اسی برس ہندوؤں نے اس مندر کو دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔شیو مندر کے انتظامی امور کے نگران درشن لال نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندو ہونے کی وجہ سے کبھی کسی مسلمان بھائی سے کوئی تکلیف نہیں ملی،''مندر کی بحالی میں مقامی لوگوں کا کردار بہت مثبت رہا ہے۔‘‘ مندر میں ایک پنڈت جے پرکاش بھی ہیں مگر تہواروں کے موقع پر دس سے پندرہ پنڈت یہاں موجود ہوتے ہیں۔ مندر کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے درشن لال نے کہا مندر میں موجود شیو لنگم ہزاروں سال پرانا ہے اور ابھی بھی اسی حالت میں موجود ہے، ''کئی سال پہلے جب بھارت میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تو لوگوں نے شیو لنگم پر حملہ کیا تھا جس کے نشانات لنگم کے اوپر اب بھی موجودہ ہیں مگر اس کے بعد کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ‘‘وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اقلیتوں کو حقوق فراہم کرنے میں خاصی توجہ دی ہے۔ ان کے بقول،''جیسے ہم پاکستان میں آزادی سے اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہیں اس طرح بھارت میں بھی مسمانوں کو آزادی ہونی چاہیے۔ دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے اور جان ومال کو تحفظ دینےسے ہی اچھا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔ مذہبی انتشار پھیلانے سے نفرت پروان چڑھتی ہے۔‘‘کئی سالوں تک یہ مندر بوسیدہ حالت میں توجہ کا طلب گار رہا۔ اطلاعات کے مطابق 2016 ء میں ہزارہ یونیورسٹی کے طلباء نے شیو مندر کی بحالی کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ اس دوران پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس، ڈائریکٹوریٹ آف آثار قدیمہ، عجائب گھر اور وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تعاون سے بحالی کا کام کیا گیا۔ اس موقع پر عمارت کی تزئین و آرائش و صفائی ستھرائی کی گئی اور پینٹنگ، کوڑے دان اور لائٹیں وغیرہ لگائی گئیں۔ حکومتی سرپرستی میں شروع کیے جانے والے اس پروجیکٹ کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک سے آنے والے یاتریوں کو رسومات ادا کرنے میں مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے، خطے میں امن اور رواداری کے جذبات کو فروغ ملے اور بین الااقومی سطح پر بھی ملک کی بارے میں مثبت تاثر اجاگر ہو۔مندر کی حفاظت کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے ہر وقت ایک اہلکار ڈیوٹی پر رہتا ہے۔ کانسٹیبل زاہد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مندرمیں آنے کے لیے ڈی پی او مانسہرہ سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے، ''ہزارہ یونیورسٹی کے طلبہ ریسرچ کے لیے بھی اجازت لیتے ہیں۔ مقامی افراد کو بھی آزادی سے مندر میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘‘ تہوار کے موقع پر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جاتا ہے۔ زاہد نے مزید بتایا کہ اتوار کے دن ملک کے دیگر علاقوں سے ہندو پوجا کے لیے خصوصی طور پر آتے ہیں اس لیے اتوار کے دن ہندوؤں کے علاوہ کسی کو بھی مندر میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔مندر کے اردگرد علاقے پر نظر ڈالیں تو مندرکھیتوں اور بہتی ندیوں کے بیچوں بیچ ہے۔ تین ہزارسال پرانا یہ مندر ہندوؤں کے لیے بہت مقدس ہے اور اسی لیے ہر سال فروری اور ساون کے مہینوں میں بھی سالانہ تہوار کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے متعدد ہندو یاتری پوجا کے لیے آتے ہیں۔درشن لال نے مندر سے جڑی پانی کی گفا (غار) کے بارے میں بتایا کہ جب لنگم پر حملہ کیا گیا تو گفا سے ناگ دیوتا لنگم کی حفاظت کے لیے نمودار ہوئے اور آج تک ناگ دیوتا رات کے اوقات میں مندر کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر سے تقریبا تین سو میٹر کے فاصلے پر موجودہ اس گفا سے قدرتی پانی زمین سے آتا ہے جس میں ناگ دیوتا رہتے ہیں۔ایک مقامی شہری محمد نواز نے بتایا کہ بزرگوں سے انسانی شکل کے سانپ کے بارے میں سنا تو ہے مگر کبھی دیکھا نہیں ہے۔ گفا کے چشمہ کا پانی شفاف ہے، جسے جلد کی بیماریوں اور ہاضمے کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو یہاں پوجا کے لیے آتے ہیں، ناگ دیوتا کے لیے دودھ رکھنے کی رسم کرتے ہیں اور گفا کے پانی کو بہت مقدس مانتے ہیں جبکہ مسلمان یہ پانی پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔درشن لال کے مطابق مندر کی 172 کنال اراضی کی دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب زیادہ تر زمین پر قبضہ کر کے تعمیرات کی جا چکی ہیں جبکہ 26 کنال کو محکمہ اوقاف نے مقامی افراد کو لیز پر دے رکھا ہے۔ مندر سے ملحقہ صرف 8 کنال اراضی ہی تعمیرات سے بچ پائی ہے، جس کی واپسی کا مقدمہ التواء کا شکار ہے۔

تازہ ترین خبریں