07:28 pm
نئے امریکی صدر کی تنخواہ کیا ہو گی، اور انھیں کیا کیا مراعات حاصل ہوں گی تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی

نئے امریکی صدر کی تنخواہ کیا ہو گی، اور انھیں کیا کیا مراعات حاصل ہوں گی تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی

07:28 pm

دنیا کا طاقتورترین شخص یعنی امریکی صدر کتنی تنخواہ لیتا ہے، تنخواہ کے علاوہ اسے کون کون سے الائونسز ملتے ہیں اوراسے کیا کیا مراعات حاصل ہوتی ہیں۔دنیا کی سپر پاور امریکہ کا صدر دنیا کی سب سےبااثر اور وی وی آئی پی شخصیت ہوتا ہے۔ اپنے عہدے کی اہمیت اور ذمہ داریوں کے باعث امریکی صدر بھاری تنخواہ ،الائونسز اور مراعات لیتا ہے۔امریکی صدر کوسالانہ   چار لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی چھ کروڑ 40لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ اس تناسب سے اگر ماہانہ تنخواہ کا اندازہ لگایا جائے تو یہ 33ہزار 333ڈالر یعنی پاکستانی53لاکھ 58ہزار روپے سے بھی زائد رقم بنتی ہے۔اس تنخواہ کے علاوہ امریکی صدر کو ہر سال 50ہزارڈالرز یعنی
پاکستانی 80لاکھ روپے کے مختلف الائونسز بھی مل جاتے ہیں۔جن میں سے 19ہزار ڈالر یعنی پاکستانی 30لاکھ روپے صرف انٹرٹینمنٹ یعنی صدر کی اپنی اور اپنی فیملی کی سیرو تفریح اور عیش عشرت کےلئے ملتے ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ پچاس لاکھ روپے کی رقم امریکی صدر پٹرول اوردیگر ضرورتوں پر خرچ کرسکتا ہے۔عہدہ سنبھالتے ہی امریکی صدر کو وائٹ ہائوس کی سجاوٹ اور ڈیزائن یعنی فرنیچر اور پینٹ وغیرہ کےلئے ایک لاکھ ڈالریعنی پاکستانی ایک کروڑ60لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی صدر کوسالانہ 2لاکھ ڈالر یعنی پاکستانی 3کروڑ 20لاکھ روپے پنشن کی مد میں ملتے رہتے ہیں۔جبکہ اس پنشن کےعلاوہ امریکی صدر کو ریٹائرمنٹ کے بعد ہر سال اتنی ہی رقم یعنی دو لاکھ ڈالرز کا الائونس بھی ملتا ہے۔امریکی صدر اپنی صدارت کے دوران اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنا اور اپنی اہلیہ کا مہنگے سے مہنگا علاج معالجہ مفت کروانے کا مجاز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈٹرمپ اور ان کی اہلیہ جب کرونا وائرس کا شکار ہوئے تو دونوں کے علاج معالجے پر ساڑھے چھ لاکھ ڈالرز یعنی پاکستانی تقریباً 10کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔اسی طرح امریکی صدر کو تاحیات سفر کے اخراجات بھی دیے جاتے ہیں۔جبکہ سکیورٹی کےلئے امریکی صدر کے آس پاس سیکرٹ سروس کے لوگ موجود ہوتے ہیںجو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک مخصوص عرصے تک امریکی صدر اور ان کے اہل خانہ کو سکیورٹی فراہم کرتے ہیں ۔اسی طرح موت واقع ہونے کی صورت میں کسی سابق یا موجودہ امریکی صدر کی سرکاری اعزاز کے تحت تدفین بھی صدارتی پروٹوکول کا حصہ ہے۔ دوستو اب بات کرتے ہیں کہ امریکی صدر کی رہائشگاہوں کی۔ وائٹ ہائوس امریکی صدر اور ان کی فیملی کی رہائش وائٹ ہائوس کے اندرہوتی ہے۔ یہ چھ منزلوں اور 132کمروں پر مشتمل ایک پرتعیش عمارت ہے۔جہاں صدر اور ان کے اہل خانہ کو کئی طرح کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ان میں بولنگ ایریا، چاکلیٹ اسٹور، ٹینس کورٹ اور سوئمنگ پول سمیت مکمل فٹنس سینٹر بھی موجود ہے۔امریکی صدر اور ان کی فیملی کو وائٹ ہاؤس گارڈن کے تازہ فروٹ اور سبزیاں استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔وائٹ ہاؤس میں کچھ کمرے کھیلوں کے لیے مختص ہیں جن میں صدر انڈور گیمز کھیل سکتے ہیں جب کہ وائٹ ہاؤس میں ایک مووی روم بھی ہے جو 51 سیٹوں پر مشمل ہے جس میں صدر اپنے اہلخانہ کے ساتھ فلم دیکھ سکتے ہیں۔وائٹ ہائوس میں ہر وقت ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا اپنا کلینک، لیب، اورمیڈیکل انسٹرومنٹس ہیںجبکہ امریکی فوج کے اعلیٰ تربیت یافتہ ڈاکٹرز یہاں پر تعینات ہیں۔ کیمپ ڈیوڈکی رہائشگاہ اور گیسٹ ہائوس کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر کے لیے خصوصی رہائش گاہ ہے، جہاں صدر اہم ملاقاتیں کرنے اور چھٹیاں گزارنے جاتے ہیںصدر کے مہمانوں کے لیے 119 کمروں پر مشتمل اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ہے جسے بلیئرہاوس کہا جاتا ہے۔ امریکی صدر کے زیر استعمال طیارے اور ہیلی کاپٹر دو بوئنگ 747طیارے امریکی صدر کے استعمال میں رہتے ہیں۔ان طیاروں کو ائیر فورس ون کہا جاتا ہے۔یہ طیارے بھی جدید ٹیکنالوجی اور لگژری کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب منفرد مقام رکھتے ہیں۔دونوں طیاروںمیں صدر کےلئے خاص طور پر بنائے گئے اپارٹمنٹ میں آفس، جم اور بیڈروم ہوتاہے۔اس بوئنگ طیارے میں ایک میڈیکل آپریٹنگ روم، آپریشن تھیٹر اور ڈاکٹر بھی ہوتا ہے۔اسی طرح طیارے میں 85 ٹیلی فون اور انیس ٹی وی سیٹ بھی ہوتے ہیں۔ اس بوئنگ طیارے میں ہر وقت اتنا عملہ اور اتنی سیٹیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت میں 100خاص الخاص مسافروں کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔امریکی فضائیہ کو ان بوئنگ طیاروں کا صرف ایک گھنٹے کا فیول دو لاکھ ڈالرز یعنی پاکستانی 3کروڑ 20لاکھ روپے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان طیاروں کے علاوہ امریکی صدر کے زیر استعمال میرین ون خصوصی ہیلی کاپٹر ہوتا ہے، جسےامریکی صدر کسی زلزلے ،سیلاب یا سمندری طوفان زدہ علاقے کے دورے یا ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے کے مختصر سفر کےلئے استعمال کرتا ہے۔یہ ہیلی کاپٹر 150کلو میٹر فی گھنٹا کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے جبکہ یہ اینٹی میزائل سسٹم اور بیلسٹک اسلحے سے لیس ہوتا ہے۔ امریکی صدر کے زیر استعمال گاڑیاں امریکی صدر کو کسی بھی جگہ سفر کرنے کے لیے بم اور بلٹ پروف لگژری گاڑی فراہم کی جاتی ہےجسے خاص طور پر ڈیزائن کیا جاتا ہے اور کسی بھی حملے کے خدشے کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔اس بلٹ اور بم پروف گاڑی کے علاوہ امریکی صدر لیموزین کار استعمال کرتے ہیں۔جبکہ امریکی صدر اور دیگر اہم ملکی و غیر ملکی شخصیات کو لانے لے جانے کےلئے بلیک آرمرڈ بس بھی استعمال کی جاتی ہے جسے گرائونڈ فورس کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکی صدر کے زیر استعمال خصوصی بریف کیس دوستو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا ایک بریف کیس کی ایسی کیا اہمیت ہوسکتی ہے کہ اس کا تذکرہ اس رپورٹ میں کیا جا رہا ہے۔توہم آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکی صدر کوملنے والا یہ خاص بریف کیس پیسوں یا زیورات وغیرہ کو محفوظ رکھنے کےلئے نہیں دیاجا تا۔بلکہ اس میں ایسی کمیونیکشن ڈیوائسز ہوتی ہیں، جن سے امریکی صدر کسی بھی وقت دنیا کے کسی بھی حصےپر ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ سب سےدلچسپ بات یہ ہے کی امریکی صدر زیادہ تنخواہ کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر نہیں بلکہ کئی ملکوں کے سربراہان مملکت ایسے بھی ہیں جن کی ماہانہ یا سالانہ تنخواہیں امریکی صدر سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ دو بوئنگ 747 طیارے صدر کے استعمال میں رہتے ہیں، جنہیں ائیرفورس ون کہا جاتا ہے۔ طیارے میں موجود صدر کے لیے خصوصی اپارٹمنٹ میں آفس، بیڈ روم اور جم ہوتا ہے۔۔صدر کا بوئنگ 747-200B بہت ایڈوانس طیارہ ہے۔ 4000 مربع فٹ طیارے میں ایک میڈیکل آپریٹنگ روم اور صدر کے لئے نجی نشتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں خالی نشتیں اور عملے کے لیے نشتیں جو ایک وقت میں 100 افراد کو کھانا کھلا سکتے ہیں۔ ہوائی جہاز کے لیے ایک آپریٹنگ گھنٹے کی لاگت تقریباً 200 ہزار ڈالر ہے۔ ۔۔گراونڈ فورس نامی بلیک آرمرڈ بس صدر اور دیگر اہم ملکی و غیرملکی شخصیات کو لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ۔امریکی صدر کے پاس ایک خصوصی بریف کیس ہوتا ہے، جس میں۔امریکی صدر کو سالانہ تقریبا دو لاکھ ڈالر پنشن کی مد میں حاصل ہوتے ہیں۔ تاحیات سیکیورٹی، سفری اخراجات، علاج معالجہ کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ امریکی صدر کو اسٹیٹ فیونرل بھی دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ بھی امریکی صدر اور ان اہلخانہ کو کئی سہولیات مہیا ہوتی ہیں جن میں

تازہ ترین خبریں

 پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔زاہد حفیظ

پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔زاہد حفیظ

 آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلزپارٹی بعض حلقوں میں اتحاد کرنے والی ہیں، رانا عظیم

آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلزپارٹی بعض حلقوں میں اتحاد کرنے والی ہیں، رانا عظیم

پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ۔۔۔۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو جیت کیلئے 248 رنز کا ہدف دے دیا

پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ۔۔۔۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو جیت کیلئے 248 رنز کا ہدف دے دیا

کراچی میں پی ٹی آئی کے 50رہنما پارٹی چھوڑ کر پی پی میں شامل

کراچی میں پی ٹی آئی کے 50رہنما پارٹی چھوڑ کر پی پی میں شامل

 ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے مختص بجٹ کا 92 فیصد صرف ایک ٹرین پر خرچ ہوگا

ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے مختص بجٹ کا 92 فیصد صرف ایک ٹرین پر خرچ ہوگا

صحافی وسیم بادامی نے حیران کن واقعہ شئیر کردیا

صحافی وسیم بادامی نے حیران کن واقعہ شئیر کردیا

احساس ایجوکیشن سی سی ٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے سکینڈری تعلیم کیلئے وظائف کی منظوری

احساس ایجوکیشن سی سی ٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے سکینڈری تعلیم کیلئے وظائف کی منظوری

 شہبازشریف کی فلم میں کامیڈی ایکشن ‏اور آب بیتی کی داستان تھی۔ فردوس عاشق اعوان

شہبازشریف کی فلم میں کامیڈی ایکشن ‏اور آب بیتی کی داستان تھی۔ فردوس عاشق اعوان

حکومت کو ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف

حکومت کو ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف

عوام بھاری منافع کے لالچ میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ نیب

عوام بھاری منافع کے لالچ میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ نیب

ملک بھر میںموسم کیسا رہے گا ؟ کہاں کہاں بارش ہوگی ۔۔۔محکمہ موسمیات نے سب بتا دیا

ملک بھر میںموسم کیسا رہے گا ؟ کہاں کہاں بارش ہوگی ۔۔۔محکمہ موسمیات نے سب بتا دیا

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

 پنجاب کو اسلام آباد سے ریمورٹ کنٹرول سے ہدایت دی جاتی ہیں یہ عمل جمہوریت کے ساتھ مذاق  ہے ۔ حمزہ شہباز 

 پنجاب کو اسلام آباد سے ریمورٹ کنٹرول سے ہدایت دی جاتی ہیں یہ عمل جمہوریت کے ساتھ مذاق  ہے ۔ حمزہ شہباز