06:52 pm
جوبائیڈن کے حلف اٹھاتے ہی داعش کابڑےا سلامی ملک میں متحرک  ہوجاناکیا

جوبائیڈن کے حلف اٹھاتے ہی داعش کابڑےا سلامی ملک میں متحرک ہوجاناکیا

06:52 pm


اسلام آباد(ویب ڈیسک )معروف دفاعی تجزیہ نگار و ایئر ماشل (ر) شاہد لطیف نے نئے حلف اٹھانے والے امریکی صدر کے آنے سے عالمی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے انتہائی اہم سوال اٹھایا کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس لیے ہٹا دیا تھا کیونکہ وہ جنگ نہیں چاہتے تھے؟
ریٹائرڈ ایئر مارشل شاہد لطیف نے کہا کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے فوراً بعد عراق میں داعش کا متحرک ہو جانا کیا محض اتقاق ہے؟ یقیناً نہیں، انہوں نے بتایا کہ چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے حامی نہیں تھے اور وہ عراق اور افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا چاہتے تھے اس لیے امریکی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ہٹا دیا اور ان کی جگہ جو بائیڈن کو لایا گیا ہے۔شاہد لطیف نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ ایسا نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے امریکی عوام میں چاہت ختم ہو گئی ہے مگر یہ ایک سوچی سمجھی مہم سازی کے تحت ایسا کیا گیا جس میں ٹیلی ویژن پر بیٹھے تجزیہ کار طوطے کی طرح جو بائیڈن کی گردان کرتے نظر آتے تھے کہ اس کا آنا امریکہ کے لیے کتنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں پالیسی بنانے والے جان بوجھ کر عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو تاخیر کے ذریعے روکے ہوئے تھے۔

تازہ ترین خبریں