10:44 am
حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ

10:44 am

ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ حضرت عمیر بن وہب الحمجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لانے سے پہلے جنگِ بدر کے کچھ عرصہ بعد صفوان بن امیہ کے ساتھ مکہ میں بیٹھے۔ اسلام لانے سے قبل حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ایذا پہنچانے میں پیش پیش ہوتے تھے ۔حضرت
عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا وہب بن عمیر بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قیدی بن گیا تھا۔ جب حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوان بن امیہ کے پا س بیٹھے تو آپ نے جنگِ بدر کے حالات میں افسوس کا اظہار کیا اور مسلمانوں کے بارے میں (اسلام لانے سے قبل)نازیبا الفاظ استعمال کیے۔یہ سن کر صفوان بن امیہ نے کہا: ”خد کی قسم! جو لوگ بدر میں مارے گئے ان کے بعد زندگی کا کوئی لطف باقی نہیں رہا۔“ یہ سن کر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ”خدا کی قسم! تم نے سچ کہا۔خدا کی قسم! اگر میرے اوپر قرض کا بوجھ اور اہل وعیال کی فکر دامن گیرنہ ہوتی جن کا میری عدمِ موجودگی میں کوئی یارومددگار نہیں ہے تو میں ضرور مدینہ جا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردیتا ۔مدینہ جانے کے لئے میرے پاس یہ بہانہ بھی ہے کہ میرا بیٹا ان لوگوں کے ہاتھوں میں قید ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اس سے ملنے آیا ہوں ۔ “ صفوان بن امیہ نے موقعہ کو غنیمت جانا اور کہنے لگا: ”تمہارا قرض میں اپنے ذمے لیتا ہوں اور تیرے اہل وعیال کو میں اپنی سر پرستی میں رکھوں گا۔“ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا: ”بس اس معاملے کو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔“ صفوان ابن امیہ نے کہا: ”میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔“ اس کے بعد حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تلوار خوب تیز کی اور اسے ہر آلود کیا۔ پھر وہ مدینے کی طرف چل پڑے۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے دیکھا ۔اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنگ بدر کا تذکرہ فرمارہے تھے ۔اس جنگ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو عزت بخشی تھی اور ان کے دشمنوں کو جس عبر تناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس پر بھی تبالہ خیالات کررہے تھے ۔حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ تلوار سے مسلح ہیں اور اپنا اونٹ مسجد نبوی کے دروازے پر بیٹھا رہے ہیں تو حضرت عمر فارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”یہ دُشمن خدا عمیر بن وہب ہے ۔خدا کی قسم! یہ کسی شرارت کے لیے آیا ہے یہی ہے جس نے بدر کے میدان میں دشمنوں کو ہمارے اوپر چڑھائی کے لیے آمادہ کیا اور ہماری تعداد کا اندازہ اسی نے انہیں بتایا تھا۔ “ اس کے بعد حضرت عمر فارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دشمنِ خدا عمیر بن وہب اپنی تلوار لے کر آیا ہے اور اس کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے ۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمیر بن وہب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کو میرے پاس لے آؤ۔ “ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے انصاری ساتھیوں سے فرمایا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جاؤ اور اس خبیث پر نظر رکھو کیونکہ اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکڑ کر لارہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )!عمیر بن وہب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو چھوڑ دو۔اے عمیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! یہاں میرے پاس آؤ۔“ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور اپنے جا ہلانہ طریقے کے مطابق سلام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلام کا بہترین طریقہ سکھایا ہے اور یہ اہلِ جنت کا طریقہ ہے جس میں سلامتی اور رحمت کی دعا دی جاتی ہے۔“ حضرت عمیر بن وہب نے عرض کیا: ”اے محمد !( صلی اللہ علیہ وسلم )بخدا! آپ جانتے ہیں کہ یہ طریقہ زیادہ پرانا نہیں ۔ا س لیے مجھے معاف کیجئے کیونکہ میں اس سے بے خبر ہوں ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )!کس ارادے سے آئے ہو ؟“ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ”میرا بیٹا آپ کی قید میں ہے ۔میں اسی کے لیے آیا ہوں ۔میرے ساتھ نیکی کیجئے اور اسے چھوڑ دیجئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے گلے میں جو تلوار لٹک رہی ہے اس کا کیا معاملہ ہے ؟“ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ”اللہ نے ہماری تلواروں کو غارت کردیا ۔ کیا ان تلواروں نے جنگ (بدر )میں ہماری کوئی مدد کی ؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم کس کام کے لیے آئے ہو؟“ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: ”میں تو اسی کام کے لے آیا ہوں جس کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔“ دوبارہ یہی جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ بولا ۔ تم تو صفوان بن امیہ کے ساتھ حجرِاسود کے قریب بیٹھے تھے پھر تم نے قریش کے مقتولین کا آپس میں ذکر کیا۔تم نے صفوان سے کہا کہ اگر میرے اوپر قرض کا بوجھ اور اہل وعیال کا ذمہ نہ ہوتا تو میں جا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا کام تمام کر دیتا ۔تمہاری بات سن کر صفوان بن امیہ نے تمہارا قرض بھی اپنے ذمے لے لیا اور تمہارے اہل وعیال کی دیکھ بھال کا بھی وعدہ کر لیا۔ تم تو مجھے قتل کر نے آئے ہو مگر میرے اور تمہارے ارادے کے درمیان اللہ تعالیٰ کی قدرت حائل ہے ۔“ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا تو عرض کیا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے سچے رسول ہیں ۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ ہمیں جو آسمان کی خبریں اور وحی جو آپ پر نازل ہوا کرتی تھی وہ بتا تے تھے اور ہم اسے جھٹلایا کرتے تھے ۔ اب یہ معاملہ جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی ہے اس کا علم میرے اور صفوان بن امیہ کے سوا کسی کو نہ تھا ۔خدا کی قسم! میں اچھی طرح جان گیا ہوں کہ اس کی خبر سوائے اللہ تعالیٰ کے آپ کو کسی نے نہیں دی ۔پس اللہ تعالیٰ کے لیے حمد وثناکہ جس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی اور مجھے چلا کر یہاں تک پہنچا دیا اور حقیقت حال میرے اوپر واضح کر دی۔ “ اس کے بعد حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ نے کلمہ شہادت پڑھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرنے پر بہت خوش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو دین سمجھا ؤ اور اسے قرآن مجید پڑھاؤ ،نیز اس کے قیدی کو بھی آزاد کردو۔ “ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حالت کفر میں اللہ کے مومن بندوں کو شدید تکلیفیں پہنچایا کرتا تھا اور اللہ کی روشنی کو بجھانے میں کوشاں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جاؤں اور اہلِ مکہ کو اللہ جل جلالہ ،اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ حق کی طرف دعوت دوں ۔شاید اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب فرمادے۔اگر انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو جس طرح میں اہلِ حق کو تکلیفیں دیا کرتا تھا اسی طرح اب دُشمنانِ حق کو بھی ایذائیں پہنچاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت دے دی اور وہ مکہ چلے گئے ۔ ادھر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد صفوان بن امیہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلدی ہی کوئی خوش خبری لائیں گے ۔وہ اہلِ مکہ کو ہر روز بتاتا کہ عنقریب تمہیں ایک خوشی کی خبر سناؤں گا جس کے بعد تم بدر کے تمام غم بھول جاؤ گے ۔ صفوان بن امیہ ہر قافلے سے حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے مں پوچھتا رہتا۔ایک دن ایک سوار آیا اور اس نے صفوان کو بتایا کہ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو مسلمان ہو گئے ۔صفوان بن امیہ کو بڑا افسوس ہوا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ نہ تو حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کلام کرے گا اور نہ ہی اسے کوئی نفع پہنچائے گا ۔ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مکہ میں پہنچے تو لوگوں کو کھلے عام اسلام کی دعوت دینے لگے ۔اگر کوئی آپ کی مخالفت کرتا تو آ پ اسے اُڑے ہاتھوں لیتے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی کاڈر تھا نہ خوف ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر کثیر تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔

تازہ ترین خبریں