10:49 am
دُودھ میں برکت

دُودھ میں برکت

10:49 am

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔میں بھوک کی وجہ سے کئی مرتبہ نڈھال ہو کر زمین پر گر جایا کرتا اور بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا گزرہوتا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے ۔میں نے ان سے قرآن مجید کی کسی آیت کے بارے میں سوال کیا۔میں نے یہ سوال محض اس لیے کیا تھا کہ آپ مجھے اپنے ساتھ لے جاکر کھانا کھلا دیں ،لیکن انہوں نے مجھے کھانے کی دعوت نہ دی (کیونکہ ان کے بھی شب وروزفاقہ سے ہی گزررہے تھے۔ )پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ ان سے بھی میں نے ایک آیت کے متعلق پوچھا۔میرا خیال اب بھی یہی تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے کھانا کھلادیں گے ۔انہوں نے بھی مجھے دعوت نہ دی(کیونکہ ان کے گھر میں بھی فاقہ ہی تھا)اس کے بعد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر تبسم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میرے دل میں کیا ہے اور میرا چہرہ کیا بتا رہا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”لبیک یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میرے ساتھ آؤ۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے ،پھر مجھے اندر آنے کی اجازت دی ۔ گھر میں دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ پڑا ہوا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: ”یہ دُودھ کہاں سے آیا ہے ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے بتایا: ”فلاں مردیافلاں عورت نے یہ دودھ بطورِ ہدیہ بھیجا ہے ۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”لبیک یا رسول للہ !( صلی اللہ علیہ وسلم )“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصحابِ صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو بلالاؤ۔ “ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ صفہ اسلام کے سپاہی اور اللہ کے مہمان تھے ۔نہ ان کا کوئی گھر بار تھا اور نہ اہل وعیال ۔نہ وہ دُنیا کمانے کی فکر کرتے اور نہ ہی ان میں مال کی ہوس تھی ۔وہ تو علم کے طالب اور مجاہدفی سبیل اللہ تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر صدقے کا مال آتا تو پورے کا پورا اصحابِ صفہ پر خرچ فرما دیتے اور خود اس میں کچھ نہ لیتے ۔ اگر کہیں سے ہدیہ آجاتا تو اصحاب ِصفہ کو بھی عطا فرماتے اور خودبھی اس میں سے حصہ لے لیا کرتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں اصحابِ صفہ کو بلانے چلا گیا۔میں نے سوچا اس دودھ میں اصحابِ صفہ کا کیا بنے گا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سارا دودھ مجھی کو پلا دیتے۔میں تو سیر ہوجاتا۔خیر! سب اصحابِ صفہ آکر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور مجھے حکم دیا کہ ان کو ایک سرے سے پلانا شروع کرو۔ ایسے موقعے پر ہمیشہ میری ہی ذمہ داری ہوتی تھی کہ تقسیم کروں ۔میں نے پلانا شروع کیا تو خیال آیا کہ یہ دودھ میری باری آنے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا۔میں نے لوگوں کو باری باری دودھ پلایا۔ہر ایک سیر ہو کر پیتا اور پھر دوسرے کی باری آتی ۔سبھی لوگ پی چکے تو میں پیالہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑلیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”اے ابو ہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”لبیک یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم )“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبھی پی چکے اور اب تم اور میں رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے سچ فرمایا۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور پی لو۔“ چنانچہ میں بیٹھ گیا اور دودھ پیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور پی لو۔“ میں نے اور پیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرماتے رہے: ”اور پی لو اور“ بالآخر میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ !( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس ذات کی قسم! جس نے آ پ(صلی اللہ علیہ وسلم )کو حق کے ساتھ نبی بنا کر معبوث فرمایا ہے ۔ اب مزید گنجائش نہیں ہے کہ اور پی لوں ۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لاؤ پھر مجھے دو۔“ میں نے پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر پیالے میں سے دودھ پی لیا۔گویا سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ سبحان اللہ! یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے کہ دُودھ کے ایک پیالے سے سب اصحابِ صفہ،حضرت ابوہریرہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیر ہو کر پیا مگر پھر بھی دُودھ بچ گیا۔

تازہ ترین خبریں