10:54 am
مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثال استقبال

مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثال استقبال

10:54 am

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نعمت عظمیٰ کوجن بد نصیب قریشیوں نے مکہ معظمہ سے نکالا تھا اس نعمت کبریٰ کو مدینہ والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق ہجرت کے ساتھ دو پہر کے وقت قباکی بستی کے قریب پہنچے اور ایک ٹیلے کے پاس ٹھہرگئے۔یہاں کھجور کے ایک درخت کا سایہ تھا۔ قبا کے لوگوں کو خبر ہوئی تویہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے بستی سے باہر آگئے اور
”نعرئہ تکبیر “بلند کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیر مقدم کیا۔ یہ انصا ر ہتھیار بند تھے اور محبت کے بے اختیار جذبہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اس لئے اول اول حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتے رہے ،حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دھوپ آتے دیکھی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُوپر سایہ کرلیا،اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ پیغمبر خدا کون ہیں ۔ یہاں سے آپ قبیلہ بنی عمرومیں کلثوم ابن ہدم کے دولت کدہ پرتشریف لے گئے۔قیام کے دوران یہاں آپ نے مسجد قبا کی تعمیر فرمائی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ قباء میں4دن قیام فرما کر جمعہ کی صبح یہاں سے روانہ ہوئے،راستہ میں جمعہ کا وقت آگیا اور آپ نے بنی سالم کے محلہ میں نماز جمعہ ادا فرمائی۔ نماز کے بعد جب چلنے لگے تو اس بستی کے لوگ آپ کے اُونٹ کی نکیل پکڑ کر کھڑے ہوگئے کہ آپ اسی محلہ میں قیام فرمائیں،ہماری تعداد بڑی ہے ہمارے پاس ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی کافی ہے ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو،یہ خدا کی طرف سے مامور ہے جہاں اسے حکم ہوگا وہاں خود بیٹھ جائے گی۔ آپ اگر بڑھے تو محلہ بی بیاضہ ،بنی ساعدہ ،بنی حارث اور بنی عدی کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبا کیا اور اپنے ہاں قیام کرنے کی درخواست کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو وہی جواب دیا۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُونٹنی کی نیکل ڈھیلی چھوڑ رکھی تھی ۔جب وہ بنی مالک ابن نجار کے محلہ میں پہنچی تو خود بخود وہاں بیٹھ گئی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں آج مسجد نبوی میں ممبر رسول بنا ہوا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما تھے ۔ وہ اونٹنی پھر اٹھی اور اِدھر اُدھر پھر کر اسی جگہ دوبارہ بیٹھ گئی،اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے نیچے اتر آئے۔بنی مالک ابن نجار سے آپ کی پُرانی رشتہ داری تھی ،آپ کے پرداداہاشم کی ایک شادی اس خاندان میں ہوئی تھی ،آپ کے دادا عبدالمطلب اسی خاندان میں پلے بڑھے تھے اور آپ کے والد عبداللہ نے آخری ایامِ زندگی اسی خاندان میں گذارے اور یہیں انتقال فرمایا۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ آپ کو بچپن میں اسی خاندان سے ملانے لائی تھیں کہ مکہ واپس ہوتے ہوئے راستہ میں انتقال فرمایا۔طبعی طور پر آپ کی خواہش اپنے پر دادا کی سسرال (اپنے دادا کی ننھیال )میں ٹھہرنے کی تھی لیکن اس کا انتخاب آپ نے خدا تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دیا تھا اور اونٹنی اسی غیبی اشارہ پر وہاں بیٹھی ،اگر آپ اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کرتے تو دوسرے خاندان والوں کو شکایت ہو سکتی تھی ۔ قیام کی جگہ کے سامنے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان تھا،وہ آپ کو عارضی طور پر اپنے ہاں لے گئے ۔ اس کے بعد دوسرے خاندان والوں نے قیام کے لئے اصرار کیا تو قرعہ اندازہ کی گئی اور حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نکلا۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا۔اس خاندان سے میری قرابت ہے اس لئے مہمانداری کے لئے ان کا حق مقدم ہے ،یہ عرب کا دستور بھی تھا۔ مدینہ میں آپ کا استقبال جس شاہانہ انداز میں ہوا عرب میں اس سے پہلے کبھی کسی کا استقبال نہ ہوا، سارے شہر میں شور مچ رہا تھا ،نبی اللہ آگئے ،رسول اللہ تشریف لے آئے ،ہر شخص کی زبان پر تھا ،چھتوں پر عورتیں جمع تھیں اور یہ گیت گارہی تھیں۔طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکر علینا مادعی للہ داع ایھا المبعوث فینا جئت بالا مرالمطاع ہم پر چود ہویں کا چاند طلوع ہو گیا وداع کی پہاڑیوں سے ہم پر شکرواجب ہے ،جب تک خدا کو پکارنے والا باقی رہے ،اے ہمارے ہاں تشریف لانے والے تو وہ منصب اور وہ پیغام لے کر آیا ہے جس کا اتباع واجب ہے ۔ خاندان بنی نجار جہاں آپ ٹھہرے اس کی عورتیں اور لڑکیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے حاضر ہوئیں ۔آپ نے انہیں دیکھا اور محبت میں کھڑے ہو گئے ان کے ہاتھوں میں دف تھا جسے وہ بجا بجا کر یہ شعر گارہی تھیں ۔ نحن جوارِمن بنی النجار یاحبذا محمد من جار ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں ،کیا ہی اچھے پڑوسی ہیں ہمارے حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار تمام اصحاب سیر نے نقل کئے ہیں اور ذیل کے دو اشعارفقہ شافعی کی اردو کتاب المبسوط مولفہ مولانا احمد جنگ حیدر آباد نے ذکر کئے ہیں ۔اشرق البدر علینا واحتفت منہ البدود مثل حسنک ماراینا قط یاوجہ السرور یہ اشعار بھی کچھ عورتیں گارہی ہوں گی۔ ہم پر چودہویں کا چاند طلوع ہوا اور سارے چاند ماند پڑگئے ،تیرے حسن وجمال جیسا حسن وجمال ہم نے نہیں دیکھا کبھی اے ہنس مکھ چہرے والے ۔ امام بخاری وغیرہ نے اُوپر والے اَشعار تبوک سے واپسی پر گانے والیوں کی طرف منسوب کئے ہیں ،لیکن بیہقی وغیرہ نے مدینہ منورہ کے استقبال سے ان کا تعلق جوڑا ہے ۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ ثنیہ پہاڑی راستہ کو کہتے ہیں اور وداع رخصت کو ،یہ بات بعد از قیاس نہیں کہ مکہ کی طرف جانے والے راستہ پر جوگھاٹیاں تھیں انہیں بھی ثنیات الوداع کہا جاتا اور مدینہ سے شام جانے والی گھاٹیوں کو بھی اسی نام سے موسوم کیا جاتا ہو۔

تازہ ترین خبریں