11:00 am
نماز میں قرآن مجید دیکھ کر قرأت کرنا کیسا ہے؟

نماز میں قرآن مجید دیکھ کر قرأت کرنا کیسا ہے؟

11:00 am

نماز میں قرآن مجید کو اٹھا کر قرأت کرنا جائز ودرست ہے لیکن اسے معمول نہیں بنانا چاہیے اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری شریف میں آتا ہے کہ : ”سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت ان کا غلام ذکوان قرآن دیکھ کرکرتا تھا“۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ اس کی شرح فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ : ابوداؤد نے کتاب المصاحف میں اس اثر کو بطریق ایوب عن ابنِ ابی ملیکہ اور اسی طرح ابنِ ابی شیبہ نے وکیع عن ہشام بن
عرو عن ابنِ ابی ملیکہ اور امام شافعی اور عبدالرزق نے بھی اس کو دوسرے واسطوں سے موصولاً بیان کیا ہے ۔ امام مروزی نے قیام اللیل 168پر لکھا ہے کہ امام ابنِ شہاب زہر ی سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیاجو رمضان میں لوگوں کی امامت قرآن سے دیکھ کر کرتا تھا۔ تو امام زہری نے فرمایا جب سے اسلام آیا ہے اس وقت سے وہ لوگ جو ہم سے بہتر تھے قرأت قرآنِ مجید سے کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ امام مروزی نے امام ابراہیم بن سعد ‘قتادہ ‘سعیدبن مسیب‘ایوب‘عطاء‘یحییٰ بن سعید‘ عبداللہ بن وہب اور امام احمد بن حنبل سے اس کا جواز نقل کیا ہے۔ نماز میں قرآن مجید سے قرأت کرنے سے امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن ان کے شاگردوں قاضی ابویوسف اور امام محمد نے اس مسئلہ میں انکی مخالفت کی ہے جیسا کہ ہدایہ137/1پر ہے کہ جب امام قرآن مجید دیکھ کر قرأت کرے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز فاسد ہوجاتی ہے جب کہ انکے شاگردوں کے نزدیک نماز پوری ہوجاتی ہے (فاسد نہیں ہوتی )امام ابوحنیفہ پر تعجب ہے کہ ان کے نزدیک اگر نمازی پوری قرآن دیکھ کر قرأت کرے تو نماز فاسد لیکن اگر نماز میں کسی عورت کی طرف بنظر شہوت دیکھے تو نماز فاسد نہیں ۔ امام ابنِ نجیم حنفی نے 418پر لکھا ہے کہ علماء احناف کا اسے عمل کثیر کہہ کررد کرنا تحکم اور سراسر باطل ہے اگر اتنے عمل کو عمل کثیر کہہ کر نماز کو باطل قرار دے دیں تو اس قدر عمل کثیر نماز کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔جیسا کہ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ: ”ابو قتادة انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت زینت بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے اٹھائے رہتے تھے ۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عہد شمس کی حدیث میں ہے کہ جب سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اورجب قیام فرماتے تو اٹھالیتے“۔ اسی طرح بخاری شریف میں آتا ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات اُم الموٴ منین میمونہ کے گھر سویا اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وہیں سونے کی باری تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اس لیے آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں طر ف کردیا“۔ ان ہر دو حد یثوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امامہ بنت زینت رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھنا اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کو بائیں طرف سے دائیں طرف کرنا عمل کثیر نہیں اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو قرآن دیکھ کرقرأت کرنا بھی عمل کثیر نہیں اورنہ ہی اس سے نماز فاسد ہوتی ہے عمل کثیر احناف کامن گھڑت مفروضہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تعجب اس بات پر ہے کہ حنفی اسی قانون کی خود بھی کئی مقامات پرمخالفت کرتے ہیں جیسا کہ در مختار صفحہ 20پر ہے کہ کتے کے بچے کو اٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے اور منیة المصلی 100پر ہے کہ نماز میں ٹھہر ٹھہر کر جوئیں مارنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ۔ تو کیا کتے کے بچے کو اٹھا کر نماز پڑھنا اور نماز میں جوئیں مارنا عمل کثیر نہیں احناف کا وطیرہ ہے کہ جو حدیث قولِ امام کے خلاف ہو اسے حیل وحجت سے ردکر دیتے ہیں اور جو قول امام کے موافق ہو خواہ وہ کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو وہ ان کے ہاں حجت ٹھہرتی ہے ۔جیسا کہ اس کی مثالیں نور الانوار ‘اصل شاشی ‘اصول بزدوی وغیرہ جو احناف کی معتبر کتب ہیں ان میں موجود ہیں ۔ (اس کتاب میں آپ کے مسائل اور اُن کا حل جلد نمبر 1)

تازہ ترین خبریں