11:08 am
تورات اور انجیل میں ذکر مصطفیٰﷺ

تورات اور انجیل میں ذکر مصطفیٰﷺ

11:08 am

حضرت عطا بن یسار سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت عبداللہ بن عَمرو بن عاصؓ سے ملاقات کی۔ میں نے عرض کیا‘ مجھے رسول اللہ ؐ کی وہ صفات بیان فرمائیں جو تورات شریف میں ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا: ہاں! اللہ کی قسم نبی کریمؐ تورات شریف میں بعض اُن صفات سے موصوف ہیں جو قرآنِ مجید میں موجود ہیں۔وہاں اِرشادِ مبارک ہے: ’’اے نبیؐ ہم نے آپؐ کو گواہ حاضر و ناظر بشارت دینے والے‘ ڈر سنانے والے
، اَن پڑھوں کی حفاظت فرمانے والے‘ اُن کے لئے پناہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپؐ میرے بندے اور رسولؐ ہیں۔ میں نے آپؐ کا نام متوکل رکھا۔ نہ سخت دِل‘ نہ سخت زبان‘ نہ بازاروں میں شور کرنے والے‘ بُرائی کا بدلہ بُرائی سے نہیں دیتے بلکہ معافی و بخشش عطا فرما دیتے ہیں۔ اللہ اُنہیں وفات نہ دے گا حتیٰ کہ اُن کے ذریعہ ٹیڑھے دین کو سیدھا کر دے گا۔ اِس طرح کہ لوگ کہیں گے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور اُس سے اللہ اَندھی آنکھیں بہرے کان اور ڈھکے دِل کھول دے گا‘‘۔ (مشکوٰۃ حدیث ‘ مرقاۃ ‘ بخاری، مسنداحمد) اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بھی فرماتی ہیں: ’’رسولِ کریمؐ نہ تو عادۃً بُری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفاً‘ نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے اور بُرائی کا بدلہ بُرائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ‘ ترمذی‘ مرقاۃ ‘ ابن ماجہ ‘ مسند احمد) حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں: ’’تورات شریف میں (حضرت) محمدؐ کی صفت مذکور ہے اور (حضرت) عیسیٰ ؑ بن مریمؑ حضورؐ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ حضرت ابو مودودؒ فرماتے ہیں‘ حجرۂ اَنور میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔‘‘ (ترمذی ‘ مشکوٰۃ ‘ مرقاۃ) حضرت انسؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ ایک یہودی لڑکا نبی کریمؐ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہو گیا۔ نبی کریمؐ اُس کے پاس اُس کی بیمار پُرسی کے لئے تشریف لائے اور اُس کے باپ کو اُس کے سرہانے تورات شریف پڑھتے پایا۔ تو رسولِ کریمؐ نے اُس سے فرمایا: ’’اے یہودی! میں تُجھے اُس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے (حضرت) موسیٰؑ پر تورات نازل فرمائی۔ کیا تورات میں میری نعت‘ میرے اَوصاف اور میری ہجرت کا بیان ہے۔ اُس یہودی نے کہا نہیں، نوجوان بولا‘ ہاں! یا رسول اللہ ؐ! اللہ کی قسم ہم آپؐ کی نعت‘ آپؐ کی صفات‘ آپؐ کی ہجرت تورات میں پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ تب نبیؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ اِس یہودی کو اِس جوان کے پاس سے اُٹھا دو اور تم اپنے بھائی کا اِنتظام کرو۔‘‘ (مشکوٰۃ ‘ دلائل النبوۃ ‘ مرقاۃ) حضرت کعب یحکی سے روایت ہے‘ وہ تورات (شریف) میں سے لکھا ہوا بیان کرتے ہیں‘ فرماتے ہیں: ’’ہم تورات میں لکھا پاتے ہیں کہ حضرت محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں (محمد رسول اللہ) میرے پسندیدہ بندے ہیں‘ نہ سخت دِل ہیں اور نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے، بُرائی کا بدلہ بُرائی سے نہیں دیتے لیکن معاف فرما دیتے ہیں بخش دیتے ہیں۔ اُن کی ولادت مکہ (مکرمہ) میں ہو گی اور اُن کی ہجرت مدینہ (منورہ) میں اور اُن کا ملک شام ہیں اُن کے اُمتی بہت حمد کرنے والے ہیں۔ آرام اور تکلیف میں بھی اللہ کی حمد کریں گے اور ہر درجہ میں اللہ کی حمد کریں گے اور ہر بلندی پر اللہ کی تکبیر کہیں گے۔ (بڑائی بیان کریں گے) سورج کا خیال رکھیں گے۔ جب نماز کا وقت آئے گا تو نماز پڑھیں گے اپنی کمر پر تہبند باندھیں گے اور اپنے اَعضا پر وضو کریں گے۔ اُن کا مؤذن آسمان کی فضا میں اَذان دیا کرے گا۔ اُن کی صف جہاد میں اور اُن کی صف نماز میں برابر ہو گی۔ رات کے وقت اُن کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی بھنکار کی طرح ہو گی۔ (دارمی‘ مشکوٰۃ، مرقاۃ) اِن اَحادیث ِمبارکہ کے مضامین کی تصدیق قرآنِ مجید سے بھی ہوتی ہے سورۃ الاعراف میں ہے: ’’وہ جو غلامی کریں گے اُس رسول‘ بے پڑھے‘ غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہُوا پائیں گے‘ اپنے پاس تورات (شریف) اور انجیل (مقدس) میں وہ اُنہیں بھلائی کا حکم فرمائیں گے اور بُرائی سے منع فرمائیں گے اور سُتھری چیزیں اُن کے لئے حلال فرمائیں گے اور گندی چیزیں اُن پر حرام کریں گے اور اُن سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو اُن پر تھے اُتار دیں گے۔ تو وہ جو اُن پر اِیمان لائیں اور اُن کی تعظیم کریں اور اُنہیں مدد دیں اور اُس نور کی پیروی کریں جو اُن کے ساتھ اُترا وہی بامُراد ہوئے۔ (الاعراف: 157)

تازہ ترین خبریں