11:51 am
ثعلبہ بن حاطب کا زکوٰة دینے سے انکار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ

ثعلبہ بن حاطب کا زکوٰة دینے سے انکار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ

11:51 am

”یا رسول اللہ! حق تعالیٰ سے دُعا فرما دیجئے کہ وہ مجھے مال ودولت عطا فرمائے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامحمد عبداللہ مدنی ثعلبہ ابن حاطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! حق تعالیٰ سے دُعا فرما دیجئے کہ وہ مجھے مال ودولت عطا فرمائے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا برا ہو ثعلبہ ،وہ تھوڑا ما ل جس کا تم شکر ادا کر سکو کہیں بہتر ہے بہ نسبت اس زیادہ مال کے جس کی تم میں طاقت نہیں
ہے ۔اس کے بعد ثعلبہ پھر ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر بولے کہ یا رسول اللہ دُعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال ودولت سے نواز دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا براہوثعلبہ ،کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ تم خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہو جاؤ کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں اپنے پروردگار سے یہ درخواست کروں کہ یہ پہاڑ میرے واسطے سونے اور چاندی کے ہو جائیں تو ایسا ہو جائے۔مگر ثعلبہ نے پھر عرض کیا:”قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ ظاہر فرمایا،اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کریں کہ وہ مجھے مال ودولت سے نواز دے تو میں یقینا ہر حقدار کا حق ادا کروں گا۔اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثعلبہ کی درخواست منظور فرماتے ہوئے)ان کے لئے یوں دُعا فرمائی:”اے اللہ! ثعلبہ کو مال ودولت سے نواز دے!“اس دُعا کے بعد ثعلبہ نے بھیڑیں پالیں وہ بھیڑیں اس تیزی کے ساتھ بڑھنی شروع ہو ئیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں ،یہاں تک کہ ان کی بھیڑوں کے لئے مدینہ میں جگہ نہ رہی،آخر وہ مدینہ سے ہٹ کر قریب کی وادیوں میں سے ایک وادی میں فروکش ہو گئے ۔وہاں رہنے کی وجہ سے وہ اب صرف ظہر اور عصر کی نمازیں تو مدینہ میں جماعت سے پڑھتے مگر باقی نمازوں میں جماعت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ،آخر بڑھتے بڑھتے ان کی بھیروں میں اتنا اضافہ ہو گیا کہ اب وہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے صرف جمعہ کی نماز جماعت سے پڑھتے باقی نمازوں کے لئے انہوں نے جماعت میں شرکت چھوڑ دی جمعہ کے لئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو جاتے ،آخر مشغولیت بڑھتے بڑھتے ایک وقت آیا کہ انہوں نے جمعہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا (یعنی گھر پر ظہر کی نماز پڑھ لیتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ی سے بھی محروم ہو گئے )۔ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ ثعلبہ کیا ہوئے؟لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بتلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حالات سن کر تین مرتبہ یہ کلمات ارشاد فرمائے۔یاویح ثعلبہ ،یعنی افسوس ثعلبہ ،افسوس ثعلبہ ،افسوس ثعلبہ پھر صدقات کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ جس کو یہ لائے ہیں لے لیجئے جس کے لینے کے ذریعہ سے آپ ان کو گناہ کے آثار سے پاک صاف کردیں گے اور ان کے لئے یہ دُعا کیجئے۔بلاشبہ آپ کی دُعا ان کے لئے موجب اطمینان قلب ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں “۔اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمی صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجے اور انہیں صدقہ کے فرائض اور شرح لکھ کردی،ان دونوں کو روانہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ خصوصی ہدایت بھی دی کہ ثعلبہ کے پاس بھی جانا۔یہ دونوں وہاں سے روانہ ہو کر ثعلبہ کے پاس پہنچے تو ان سے صدقات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر پڑھوائی ،ثعلبہ نے کہا۔”اب تو آگے چلے جاؤ اور دوسروں سے فارغ ہو کر میرے پاس پھر آجانا“۔وہ دونوں وہاں سے آگے بڑھ گئے ،واپسی میں وہ پھر ثعلبہ کے پاس آئے تو وہ ذرا وہ تحریر مجھے پھر دکھلاؤ جو تمہارے پاس ہے میں اس پر ایک نظر ڈالوں گا۔وہ تحریر پڑھنے کے بعد ثعلبہ نے ان دونوں گماشتوں سے کہا۔”یہ صدقہ تو جزیہ ہی کی سی ایک قسم ہے اب تو تم جاؤ تا کہ میں بھی اس کے متعلق رائے قائم کرلوں !“یہ دونوں وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اس سے پہلے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ بتلاتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھتے ہی پھر وہی کلمہ ارشاد فرمایاکہ۔یاویح ثعلبہ ،افسوس ثعلبہ ،اس کے بعد ان گماشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثعلبہ کی رود ادسنائی ،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔”اور ان منافقین میں سے بعض آدمی ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے بہت سامال عطا فرمادے تو ہم خوبخیرات کریں اور ہم اس کے ذریعہ سے خوب نیک نیک کام کیا کریں ،سوجب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے بہت سامال دیدیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے کہ زکوٰة نہ دی اور اطاعت سے روگردانی کرنے لگے“۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثعلبہ کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہی ثعلبہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں اور وہ آیات یہ ہیں ،ثعلبہ یہ سنتے ہی گھر سے روانہ ہو کر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ان کی طرف سے صدقہ قبول فرمالیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اللہ تعالیٰ نے اس سے روک دیا ہے کہ تمہارا صدقہ قبول کروں!“اس پر ثعلبہ بد حواس ہو کر اپنے سر پر خاک اڑانے لگے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”یہ تمہارے ہی عمل کی وجہ سے ہے میں نے تمہیں ایک حکم دیا مگر تم نے میری اطاعت نہیں کی ۔غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے کچھ بھی قبول کرنے سے انکار فرمادیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ثعلبہ ان کے پاس حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ان کی طرف سے صدقات قبول کرلئے جائیں ،انہوں نے بھی انکار کرتے ہوئے فرمایا۔”تمہارے صدقات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تھا اس لئے میں بھی قبول نہیں کر سکتا ۔“اس کے بعد ثعلبہ نے خلافت فاروقی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور خلافت عثمانی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی یہی درخواست کی مگر ہر ایک نے ان کی درخواست رد کردی ،یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ہی ثعلبہ ابن حاطب کا انتقال ہو گیا۔

تازہ ترین خبریں