10:29 am
اقامت میں تکرارِ کلمات کا کیا حکم ہے؟

اقامت میں تکرارِ کلمات کا کیا حکم ہے؟

10:29 am

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبہ جمعہ میں حمد باری تعالیٰ، عقائد و عبادات کی تعلیم، وعظ و نصیحت اور حالات پر تبصرہ فرماتے تھےمفتی: محمد شبیر قادری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبہ جمعہ میں حمد باری تعالیٰ، عقائد و عبادات کی تعلیم، وعظ و نصیحت اور حالات پر تبصرہ فرماتے تھے اور یہ خطبہ دو حصوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ آپ کی اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے امتِ مسلمہ نے تواتر کے ساتھ خطبہ جمعہ کے ان مشتملات

 کو شامل رکھا ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے۔پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہو جاتے جیسے تم اب کرتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی عربی خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دو حصوں میں دیا جاتا ہے اور درمیان میں خطیب چند لمحات کے لئے بیٹھتا ہے۔اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ:ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبے دیا کرتے اور ان کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:ترجمہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبے دیتے تھے، جن کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھا کرتے تھے قرآن مجید پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے۔خطبہ جمعہ کی سنتوں میں ایک یہ ہے کہ دو خطبے پڑھے جیسا کہ حسن بن زیاد نے امام ابو حنیفہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا امام کو ایک ہلکا پھلکا خطبہ پڑھنا چاہئے جس کی ابتداء اﷲ کی حمد و ثناء، شہادت اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف سے ہو اور وعظ و نصیحت کرے اور کوئی سورہ پڑھے، پھر تھوڑا سا بیٹھے پھر کھڑا ہو کر دوسرا خطبہ دے۔لہٰذا خطبہ جمعہ دو حصوں میں دینا اور درمیان میں خطیب کا تھوڑا سا بیٹھنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، اگر کوئی ایک خطبہ دے تو پھر بھی خطبہ ادا ہو جاتا ہے لیکن وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک سنت سے محروم رہتا ہے۔2۔ اقامت کے الفاظ کی تعداد کے بارے میں فقہاء کرام کے دو مذہب ہیں۔ احناف کے نزدیک اقامت میں اذان کی طرح کلمات میں تکرار ہے جبکہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سوائے تکبیر کے اقامت کے کلمات میں تکرار نہیں ہے۔ان دونوں مذاہب کی بنیاد احادیث پر ہے۔ یہاں صرف احناف کے موقف کی تائید میں احادیث پیش کی گئی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن زید نے بیان کیا ہے:ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذان اور اقامت دو دو مرتبہ تھی۔ اسی طرح ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ الکوفی نے صحیح سند کے ساتھ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاحضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے موذن تھے وہ اذان اور اقامت کے الفاظ دہرے دہرے ادا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان انیس کلمات اور تکبیر سترہ کلمات سکھائی

تازہ ترین خبریں