07:39 am
مشکل کشا ․․․․․صرف اللہ

مشکل کشا ․․․․․صرف اللہ

07:39 am

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور پیغمبروں میں برگزیدہ کیا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اولاد نہ ہونے پر دعا فرمائی:”اے پروردگار میرے !تحقیق سست ہوگئی ہیں ہڈیاں میری اور شعلہ مار امیرے سرنے پڑھاپے سے (یعنی بال میرے سر کے سفید ہو گئے ہیں)اور میں تجھ سے شرما کر فرزند مانگ رہا ہوں کہ میں بد نصیب نہ ہوں اور میری موت کے پیچھے لوگ مجھ کو طعنہ دیں اور یہ بھی تجھے معلوم ہے کہ میری بیوی بانجھ ہے ۔
پس اے خدا عنایت فرما مجھے ایک صالح اور خوبصورت فرزند تاکہ وہ میرا والی وارث ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا بھی وارث ہواور وہ فرزند بھی تیرا پسندیدہ ہو“۔پس حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اے زکریا علیہ السلام !ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ تیرے تئیں ایک لڑکے کی کہ نام اس کا یحییٰ علیہ السلام ہے ۔نہیں پیداکیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی بھی “۔اور پورے نو مہینے بعد حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور چار برس تک حضرت یحییٰ باہر نہیں نکلے اور نہ ہی کسی لڑکے کے ساتھ کھیلے ۔ان کی ماں کہا کرتی تھیں:اے بیٹا !کیوں نہیں باہر لڑکوں میں کھیلتے ؟وہ بولے:اے میری ماں !اللہ تعالیٰ نے مجھے کھیلنے کے واسطے نہیں پیدا کیا ہے اس نے جس واسطے مجھ کو پیدا کیا ہے وہ وہی کام لینا چاہتا ہے۔ یہ بات بار بار کہتے تھے اور پھر دن رات روتے تھے۔یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام نے خدا سے عرض کی کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام ہر وقت روتا رہتا ہے اور میں بہت پریشان رہتاہوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا :تو نے مجھ سے ایک صالح بیٹا چاہا تھا اور میں نے تجھ کو ویسا ہی دیا اور تو نے خواہش کی تھی کہ وہ میری اطاعت کرے اور بے شک ایسے لوگ مجھے بہت پسند ہیں ۔یہ سن کر حضرت زکریا علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے اور پھر قوم بنی اسرائیل کو وعظ ونصیحت کرنے لگے۔حضرت زکریا علیہ السلا بنی اسرائیل کو نصیحت کرتے رہے لیکن وہ ان کی جان کے درپے ہو گئے۔حضرت زکریا علیہ السلام نے ایک درخت کے تنے میں پناہ لے رکھی تھی۔ایک دفعہ دشمنوں نے تعاقب کیا آپ نے درخت کے تنے میں جا کر پناہ لی۔اسی وقت شیطان نے انسان کی صورت میں ان کافروں کو بتایا کہ حضرت زکر یا علیہ السلام درخت کے تنے میں چھپے ہوئے ہیں اور تم لوگ آرے کی مدد سے یہ درخت کاٹ ڈالو۔ یہ سنتے ہی ان کافروں نے ایک بڑا آرا لے کر اس درخت کو کاٹنے لگے۔اور حضرت زکریا علیہ السلام کے سر کے نزدیک جب آرا آیا تو حضرت زکریا علیہ السلام اف کراٹھے۔تو اسی وقت رب کائنات نے فرمایا:”اے زکریا علیہ السلام!تکلیف اور مصائب پر پہلے صبر کیوں نہیں کیا جواب فریاد کرتے ہو اور مجھ سے پناہ کیوں طلب نہیں کی اب اگر دوبارہ تمہارے منہ سے آہ نکلی تو صابرین سے تمہارا نام خارج کر دیا جائے گا۔پس حضرت زکریا علیہ السلام نے دوبارہ اف تک نہیں کی اور اپنی جان اسی طرح خدا کو سونپ دی۔یہ ایک اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کے بجائے ایک درخت کو کہا کہ مجھے پناہ دو(یہ سب اللہ کے حکم سے ہی ہوا ہو گا)لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے راستہ متعین کر دیا اور بتادیا کہ میرے بغیر کسی سے بھی مدد یا پناہ طلب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،لوگو!مجھ سے مدد مانگو میں ہی قبول کرنے والا ہوں،عطا کرنے والا ہوں۔اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میں ہراعلیٰ دادنیٰ کی پکار سنتا ہوں۔تمہیں جو ضرورت یامدد درکار ہوتو صرف مجھ سے ہی مدد طلب کرو اور میرے علاوہ تمہاراکوئی مشکل کشا نہیں ہے ۔میں ہی تمہارے مصائب اور مشکلات دور کرنے والا ہوں۔

تازہ ترین خبریں