10:10 am
آب زم زم کے فضائل

آب زم زم کے فضائل

10:10 am

اس مضمون میں آب زم زم سے متعلق چند باتیں جمع کی گئی ہیں جو عموماً لوگوں کے علم میں نہیں ہوتیں اور ان فضائل کے جاننے سے یقینا آب زم زم کی اہمیت اور قدر بڑھ جاتی ہے اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ سبحان اللہ کیا نعمت ہمیں اللہ رب العزت نے عطاء فرمائی اور ہم اس کی قدر نہ کر سکے۔آب زم زم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک ہے۔
 
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زم زم کی طرف تشریف لائے تو ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے زم زم کے کنویں میں ڈول ڈال کر آب زم زم پیش کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا پھر اس ڈول میں کلی فرمادی ۔پھر ہم نے اس ڈول کا پانی (جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی فرمائی تھی)زم زم کے کنویں میں ڈال دیا۔ آب زم زم روئے زمین میں سب سے افضل پانی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے شفاء رکھی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا روئے زمین پر سب سے بہترپانی آب زم زم ہے اور اس میں بیمار کیلئے شفاء ہے۔آب زم زم قیامت تک باقی رہے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے قریب تمام زمین سے میٹھا پانی خشک کردیں گے،مگر زم زم کا پانی اس وقت بھی باقی رہے گا۔ دنیا و آخرت کی حلال خواہشات اور جائز تمنائیں پوری کرنے کیلئے پیا جا سکتا ہے کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے”ماء زم زم لما شرب”یعنی زم زم کا پانی جس مقصد سے پیا جائے تو وہ (مقصد )پورا ہوتاہے ۔آب زم زم پینے کی دعا کو ضرور یاد فرمائیں: (ترجمہ)اے اللہ میں آپ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو مجھے نفع پہنچائے اور مجھے خوب کشادہ رزق عطا ء فرما اور ہر بیماری سے شفاء عطاء فرمانا۔ جدید سائنس آب زم ز م اور اس کے کنویں کی پر اسراریت اور قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہو کر رہ گئی ہے۔عالمی تحقیقی ادارے کئی دہائیوں سے اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ آب زم زم میں پائے جانے والے خواص کی کیا وجوہات ہیں ۔اور ایک منٹ میں 720لیٹر جبکہ ایک گھنٹے میں 43ہزار2سولیٹر پانی فراہم کرنے والے اس کنویں میں پانی کہاں سے آرہا ہے جبکہ مکہ شہرکی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی کے باوجود پانی موجود نہیں ہے۔ جاپانی تحقیقاتی ادارے ہیڈوانسٹیٹیوٹ نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ آب زم زم ایک قطرہ پانی میں شامل ہو جائے تو اس کے خواص بھی وہی ہو جاتے ہیں جو آب زم زم کے ہیں جبکہ زم زم کے ایک قطرے کا بلوردنیا کے کسی بھی خطے کے پانی میں پائے جانے والے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ایک اور انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ری سائیکلنگ سے بھی زم زم کے خواص میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ آب زم زم میں معدنیات کے تناسب کا ملی گرام فی لیٹر جائزہ لینے سے پتا چلتاہے کہ اس میں سوڈیم133،کیلشیم 96،پوٹاشیم43.3،ہائی کاربونیٹ195.4کلورائیڈ163.3،فلورائیڈ 172.0،نائیٹریٹ124.8اور سلفیٹ 124ملی گرام فی لیٹر موجود ہے۔آب زم زم کے کنویں کی مکمل گہرائی 99فٹ ہے اور اس کے چشموں سے کنویں کی تہہ تک کا فاصلہ17میٹر ہے ۔واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً تمام کنووں میں کائی کا حجم جانا ،انواع واقسام کی جڑی بوٹیوں اور خودروپودوں کا اگ آنا نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش یا مختلف اقسام کے حشرات کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے جس سے پانی رنگ اور ذائقہ بدل جاتاہے۔اللہ کا کرشمہ ہے کہ اس کنویں میں نہ کائی جمتی ہے نہ نباتاتی وحیاتیاتی افزائش ہوتی ہے نہ رنگ تبدیل ہو تاہے نہ ذائقہ۔۔۔

تازہ ترین خبریں