11:53 am
سعودی عرب میں کم عمری کی شادی کے خلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئیں، کم ..

سعودی عرب میں کم عمری کی شادی کے خلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئیں، کم ..

11:53 am

جدہ : سعودی عرب میں بھی کم عمری کی شادی کے حوالے سے آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ کم عمری کی شادی لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے جسمانی اور جذباتی لحاظ سے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس لیے ایسی شادیوں پر پابندی لگائی جائے۔ سعودی ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے۔
 
اس سے قبل لڑکا لڑکی کی شادی کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔ ایک سعودی اخبار نے ہیومن رائٹس کمیشن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ 18 برس سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے بہت سی نفسیاتی اُلجھنیں جنم لیتی ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس سے بھی یہ بات پتا چلی ہے کہ دونوں ذہنی اور جسمانی اعتبار سے بالغ نہیں ہوتے اور ازدواجی زندگی کی ذمہ داریاں نبھانے میں اُنہیں دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس حوالے سے 18 برس سے کم عمر کی شادی پر پابندی کے لیے قانون سازی ضرورت بن چکی ہے۔ سعودی عرب نے حقوق اطفال سے متعلق کئی بین الاقوامی معاہدوں پر بھی دستخط کر رکھے ہیں، جن کی رُو سے 18 سال سے کم عمر شخص نابالغ قرار پاتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ کم از کم 18 سال کی عمر تک والدین اپنے بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کریں۔ اُن کی شادی کسی صورت 18 سال سے پہلے نہ کریں۔ اُنہیں ضروری سہولتیں مہیا کریں اور ان پر قبل از وقت ذمہ داریوں کا بوجھ نہ لادیں، جس سے وہ پریشانیوں میں گھر جائیں۔ 18 برس سے قبل شادی کسی بھی صورت اچھا فیصلہ نہیں ہے۔ سعودی حکام کو اس حوالے سے موثر قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ کم عمری کی شادی کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

تازہ ترین خبریں