11:32 am
ربیع الاول کا درس۔۔

ربیع الاول کا درس۔۔

11:32 am

۔تحریر:محمد سجاول نوازربیع الاول کے موقع پر لو گ گلیاں سجاتے، چراگاں کرتے اور محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ جس میں حضور پاک کی شان و رفعت ، سعادت،عظمت ، آدب و احترام کے تقاضے اور ان کی علمی اور عملی زندگی کے متعلق بیانات ہو تے ہیں
 
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں برکتوں ،سعادتوں، رفعتوں سے بھرا ما ہ ر بیع الاول امت مسلمہ کو بہت بہت مبارک ہو۔حضوراکرمﷺ کی ولادت کا ماہ جو کہ اپنی برکتیں سمیٹے ہوے دوبارہ نصیب ہوا۔ اس بابرکت ماہ میں لوگ خاص طور پر ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر حضور کی شان میں جلوس کی اشکال میں نعرے بلند کرتے ہوے ، درود و سلام ، ذکرواذکار کی محفل سجا کر آپ کی ولادت کی خوشی مناتے ہیں۔ ربیع الاول کے موقع پر لو گ گلیاں سجاتے، چراگاں کرتے اور محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ جس میں حضور پاک کی شان و رفعت ، سعادت،عظمت ، آدب و احترام کے تقاضے اور ان کی علمی اور عملی زندگی کے متعلق بیانات ہو تے ہیں۔ پہلے پہل ربیع الاول کے موقع پر جلوس کا اہتمام کیا جاتاتھا۔ لیکن چند سالوں میں بے تحاشہ چراگاں کرنا ، بینڈ باجے کا انعقاد کرنا اور اب گلی کوچوں میں پوسٹر پر نام اور تصاویر آ ویزاں کرنے کا رواج قائم ہو چکا ۔ لیکن اس ساری صورت حال کے بر عکس ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی سنت پر عمل کر رہے ہیں ؟ کیا ہمارے تمام تر کام اسوہ حسنہ کے مطابق ہیں؟ آج کل کا نو جوان حضور کی شان میں یہ تمام تر کام تو کرتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فرائض (نماز، روزہ وغیرہ) جن کی کسی صورت معافی نہیں ہے کیا ان کی پابندی بھی باقاعدہ کی جا رہی ہے؟ آج کل سوشل میڈیا نے انسان کو بے تحاشہ سست بنا دیا ہے۔ ہمارے ہاں نعرے تو بلند کیے جاتے ہیں کیا ان تمام کے بر عکس ان کی کوئی عملی شکل بھی موجود ہے؟ یا یہ صرف ایک نعرے کی حد تک ہے؟ آپ جس جگہ پیدا ہوئے وہ دنیا کی جگہ مقدس آپ نے جس جگہ قیام کیا وہ جگہ مقدس ۔ آپ دونوں جہانوں کے لیے معلم بنا کر بھیجے گئے۔ جس جگہ نعلین پاک رکھے وہ جگہ اعلیٰ جس جگہ آپ نے پسینہ گرایا وہاں خشبو کی صورت میں گلاب نکلا۔ جو آپ کا دوست بنا اس کا رتبہ اعلیٰ اور افضل (حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی )اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے ۔ آپ کی صداقت، دیانت، شرافت، بردباری، عفودرگزر، رحم دلی، بچوں سے شفقت،بڑوں کے آداب، جو بھی تعریف بیان کی جائے الفاظ کم پڑ جائیں لیکن آپ کا اعلیٰ و افضل مرتبہ بہت بلندو با لا ہے۔جب انسانیت کا وجود نہیں تھا صرف الله تعالیٰ کا لوح وقلم اور عرش موجود تھا۔ تب الله تعالیٰ نے قلم کو حکم دیا کہ میرے محبوب کا چہرہ انور بناؤ قلم نے اپنی پوری طاقت لگائی اور چہرہ انور بنایا حکم ہوا اس سے بھی زیادہ طاقت لگاؤ اور پھر بناؤ دوبارہ بنایا گیا پھر حکم ہوا اس سے بھی بہتر بناؤ پھر سے قلم نے آپنا جاہ و جلال لگایا اور شکل بنائی پھر حکم ہوا نہیں اس سے بھی بہترحتیٰ کہ ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ننانوے کے بعد ایک چہرہ مبارک بنا جس کا یہ حکم ہوا کہ یہ میرے محبوبﷺ کو دیا جائے۔سبحان الله۔ وہ آئے جن کے آنے کو گلستاں کی سحر کہیے وہ آئے جن کو ختم الانبیا ء خیر البشر کہیے

تازہ ترین خبریں