03:17 pm
یورپ میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد --- جانیے 5 حیران کن حقائق

یورپ میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد --- جانیے 5 حیران کن حقائق

03:17 pm

 
اگرچہ یورپ میں مسلمان بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں اور مسلمانوں کی آبادی یورپ کی کل آبادی کا صرف 5 فیصد ہے۔ تاہم کچھ ممالک، جیسے فرانس اور سویڈن میں، آبادی کا مسلم حصہ زیادہ ہے۔بین الاقوامی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے اندازوں کے مطابق ، آنے والی دہائیوں میں یورپ کی آبادی میں مسلم حصہ میں اضافے کی توقع کی جارہی ہے - اور ان کی تعداد دوگنا ہوسکتی ہے۔ پیو ریسرچ سنٹر کے 2016 کے آبادی کے تخمینے کا استعمال کرتے ہوئے، یہاں یورپ میں آباد مسلمانوں کے بارے میں پانچ حقائق پیش کیے جارہے ہیں۔
 
یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان جرمنی اور فرانس میں رہائش پذیر ہیں-سال 2016 کے وسط میں کیے جانے والے سروے کے مطابق فرانس میں 5.7 ملین مسلمان ( ملک کی کل آبادی کا 8.8 فیصد ) آباد ہیں جبکہ جرمنی میں 5 ملین مسلمان ( ملک کی کل آبادی کا 6.1 فیصد ) موجود ہیں- یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی تعداد یورپ میں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آنے والے دہائیوں میں یہ اضافہ جاری رہے گا۔ صرف 2010 کے وسط سے لے کر 2016 کے وسط تک ، یورپ میں مسلمانوں کی آبادی میں ایک فیصد سےزائد اضافہ ہوا اور وہ 3.8 فیصد سے بڑھ کر 4.9 قیصد (یورپ میں کل مسلمانوں کی تعداد 19.5 ملین سے 25.8 ملین) ہوگئی- یورپی مسلمانوں کی عمر اور بچے دوسرے یورپی باشندوں کے مقابلے میں مسلمان بہت کم عمر ہیں اور ان کے بچے بھی زیادہ ہیں۔ 2016 میں ، پورے یورپ میں مسلمانوں کی اوسط عمر 30.4 تھی، جو دوسرے یورپی باشندوں کی اوسط عمر 43.8 سے 13 سال کم تھی- یوں یورپ میں سب سے زیادہ نوجوان یا کم عمر افراد مسلمانوں کی آبادی میں شامل ہیں- اس کے علاوہ یورپ میں ایک مسلمان خاتون سے 2.6 بچے متوقع ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس غیر مسلم خاتون سے 1.6 بچے متوقع ہوتے ہیں- مسلمانوں کی ہجرت سال 2010 کے وسط سے سال 2016 کے وسط تک، نقل مکانی بھی یورپ میں مسلم آبادی میں اضافے کا سب سے بڑا سبب تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2.5 ملین مسلمانوں نے پناہ کی تلاش کے علاوہ ملازمت یا تعلیم اور دیگر وجوہات کی بنا پر یورپ کا رخ کیا۔ 1.3 ملین سے زائد مسلمانوں کو یورپ میں مہاجر کا درجہ حاصل ہوا جبکہ اس عرصے کے دوران ڈھائی لاکھ مسلمان اس خطے کو چھوڑ کر چلے بھی گئے- آبادی میں قدرتی اضافہ دوسرے نمبر پر ہے- اس عرصے کے دوران یورپی مسلمانوں میں، اموات کے مقابلے میں 2.9 ملین سے زائد پیدائش ہوئیں۔ یورپی ممالک کا مسلمانوں سے متعلق نظریہ تمام یورپی ممالک میں مسلمانوں کے حوالے سے نظریات میں وسیع پیمانے پر فرق ہے۔ 2016 میں پیو ریسرچ سنٹر کے 10 ممالک میں کیے جانے والے اس سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ مشرقی اور جنوبی یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات غالب ہیں ۔تاہم برطانیہ، جرمنی، سویڈن اور نیدرلینڈ کی اکثریت عوام مسلمانوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔