مظفر آباد،جہلم ویلی میں پتھروں کی غیرقانونی نکاسی روکنے کیلئے عوام علاقہ نے وزیراعظم سے رجوع کرلیا
  12  جنوری‬‮  2018     |      کشمیر

مظفر آباد (آئی این پی) جہلم ویلی سراں کے گاو?ں بھاگسر خالصہ محلہ میں سیاسی شخصیات کی ایماء پرپتھروں کے غیر قانونی نکاسی کا انکشاف ، محکمہ ماحولیات نے ماحول کو تباہ کرنے اوردیہی علاقہ کے عوام کی زندگی اجیرن بنانے کی ٹھان لی۔ تفصیلات کے مطابق موضع بھاگسر سراں (شچڑوالانکہ ) جس کی ساخت وماہیت ڈھلوان ہے اورتینوں اطراف درجنوں مکانات ،پانچ دیہی علاقوں کو ملانے والی رابطہ سڑک ، ایک سو کنال بندوبستی رقبہ ،سو سے زائد زیتون کے پھلدار درختوں اور 3ہزار افراد کیلئے پینے کے لیئے واٹر سپلائی سکیم ہے ، پتھروں کی نکاسی سے مکمل تباہ ہوجائیں گے۔گاؤں کے تقریباً تین سوسے زائد مکانات اورنشیب میں ہونے کی وجہ سے نہ صرف شدید فضائی آلودگی کے خطرے کا باعث بنے گا بلکہ شدید بارشوں اور مون سون کے دوران (موضع اسلام آباد ملحقہ بالائی گاؤں ) کی طرف سے آنے والی ندی کی وجہ سے سیلابی ریلہ گاو?ں کی تباہی کاباعث بن سکتا ہے۔

مجوزہ سائٹ کے نیچے گاو?ں کی مسجد ہے جو کہ پہلے مرحلے میں ختم ہو کر اہلیاں علاقہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہوئے ان کے مذہبی جذبات کو مزید اشتعال دلا سکتی ہے جو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا سبب بن سکتی ہے ،عوامی حلقوں راجہ محمد سفیر خان ، راجہ نوازاشرف ، راجہ محسن قیوم ،علی افسرخان ، علی حسین خان ،عقیل منظور ودیگر نے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر اعجاز منیر ،سیکرٹری ماحولیات ،ڈپٹی کمشنر ضلع ہٹیاں بالاادارہ کلائمنٹ چینج کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ موضع بھاگسر(شچڑوالانکہ )میں پتھر نکاسی سے اجتناب برتا جائے ،پراجیکٹ ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر شفیق عباسی متذکرہ سرگرمی کیلئے متبادل جگہ کا انتخاب کریں ،جہاں انسان ،جانور ، اورماحول اوران کے بنیادی لوازمات محفوظ رہیں ،اس سلسلہ میں عوام علاقہ نے مشترکہ طور پر بذریعہ درخواست تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا ہے اگر محکمہ ماحولیات نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved