ہٹیاں بالا،ضلع جہلم ویلی میں انسدادپولیو مہم مورخہ 12تا15فروری کاافتتاح کردیا گیا
  13  فروری‬‮  2018     |      کشمیر

ہٹیاں بالا(بیورو رپورٹ)ضلع جہلم ویلی میں انسدادپولیو مہم مورخہ 12تا15فروری کاافتتاح کردیا گیا افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی کمشنر مظفرآباد ڈویژن ظفر محمودخان تھے جبکہ تقریب میں ڈاکٹربشری شمس ریاستی پرواگرام منیجر آزادکشمیر،عبدالحمید کیانی ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا،ڈاکٹرفاروق اعوان ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر،ڈاکٹر گوہر ٹیم لیڈر ڈبلیو ایچ او آزادکشمیر،ڈاکٹرطاہررحیم مغل ڈپٹی ڈی ایچ او،قاضی شمیم احمداعوان ایڈمنسٹریٹر بلدیہ،ڈاکٹر اظہر بشیرخواجہ ایم ایس ڈی ایچ کیو ،ارشدخان ڈی ایف او،ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر محمدجلیل ،ایس ڈی او اقبال اعوان،اے ای او سفیرکاظمی،علی حسن شاہ،قرۃ العین،ڈاکٹر حاجرہ،ڈاکٹر عادل سمیت دیگر نے شرکت کی اس موقع پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر پولیو مہم کا افتتاح کیا گیا اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اس پولیو مہم کے دوران ضلع ہٹیاں بالا کی تین تحصیلوں دو ٹا54ن کمیٹیوں میں 44337بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی جن میں سے تین تحصیلوں دو ٹا54ن کمیٹوں بارہ یونین کونسلوں 169گا54ں میں پانچ سال سے کم بچے44337ہیں جن میں سے چھ ماہ سے کم عمر بچے4877،چھ ماہ سے ایک سال تک کے بچے4877ایک سے سال سے پانچ سال تک کے بچے34583ہیں جن کو پولیو ویکسین پلانے کے لیئے2547وائل نیسلے کیپسول5195سرخ کیپسول35000موبائل ٹیمیں 130فکس مراکز31ٹرانزٹ پوائنٹ 8تحصیل سپروائزر 4ایریا سپروائزر28فوکل پرسن ایک ڈیٹا انٹری آپریٹر ایک ہوگا مقررین نے کہا کہ پولیو وائرس صرف انسانوں کو متاثریہ بہت متعدی ہے اور فرد کے فرد سے رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے وائرس ایک متاثرہ شخص کے گلے اور آنتوں میں رہتا ہے یہ منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ایک چھینک یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر یہ وائرس ایک متاثرہ شخص کے پاخانہ کے ساتھ رابطے کے ذریعیپھیلتا ہے.اس کے ساتھ اگر آپ کے اپنے ہاتھوں پر پاخانہ لگ جائے تو بھی آپ کو پولیو وائرس متاثر کرسکتا ہے۔ یہ وائرس آپ کے اپنے منہ کو چھونے سے بھی آپ کی جلد پر آجاتا ہے۔ جو آپ کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو آلودہ کر دیتا ہے حتہ کہ آپ اگر بیت الخلاء سے ہاتھ دھوئے بغیر کسی کھلونے یا کسی اشیاء کو چھولیں اور وہ کھلونا یا اشیاء کسی طرح کوئی بچا اپنے منہ میں ڈال لے تو اس سے بھی اسے پولیو ہو سکتا ہے

ایک متاثرہ شخص سے فوری طور پر دوسرے شخص میں وائرس پھیل سکتا ہے اور اس کی باقاعدہ علامات 1 سے 2 ہفتوں کے اندرظاہر ہوجاتی ہے۔ وائرس کئی ہفتوں تک ایک متاثرہ شخص کے چہرے پر رہ سکتے ہیں چاہے آپ کتنی ہی بار منہ دھولیں. یہ خوراک اور پانی کے اندر مل کر ان کو بھی آلودہ کر سکتا ہے۔ پولیو سے متاثرہ شخص سے خود ایک بیماری ہوتے ہیں جو دوسروں کو وائرس منتقل کرنے اور انہیں بیمار کرسکتے ہیں پولیو کی پانچ اقسام ہیں۔ خاموش پولیو (Silent polio): یہ بچوں میں عام ہوتا ہے اور جن خاندانوں میں یہ مرض پہلے سے موجود ہو اسے خاموش پولیو کہا جاتا ہے۔ یہ بچے کی غذائی نالی میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کے نظام ہاضمہ پر حملہ نہیں کرتا اور علامات ظاہر نہیں کرتا۔2۔ ابورٹوو پولیو (Abortive polio): اس قسم میں وائرس کا حملہ شدید ہوتا ہے لیکن نظامِ عصاب کے علاوہ دیگر جسمانی نقائص پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ قسم اکثریت میں پائی جاتی مقررین نے زور دیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیئے علماء،سیاسی،سماجی،مذہبی،وکلاء سمیت تمام اہم شخصیات اورباالخصوص ما54ں کو مل کرکردارادا کرنا ہوگا تاکہ پولیو کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے اس موقع پر پولیوٹیمیوں کے ساتھ ہرقسم کے تعاون کرنے کی بھی اپیل کی گئی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved