تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

قومی خزانے کو کروڑوں کی پھکی بچوں کو قوم کے معماروں کے پاس بھجتے رہے


نکیال(نمائندہ اوصاف) گورنمنٹ انٹر سائنس کالج موہڑہ دھروتی کا سال اول کا رزلٹ 60 طلبا سے صرف ایک طالب علم پاس بچوں کے والدین کا غشی کے دورے پڑھنے لگے قومی خزانے کو کروڑوں کی پھکی بچوں کو قوم کے معماروں کے پاس بھجتے رہے ۔ہمیں کیا پتا کہ یہ قوم کے مسمار ثابت ہونگے ۔یہ حرام حوری کی انتہا نہیں ہے تو اور کیا ہے ۔کالج کے پرنسپل صاحب کی بے حسی اور مردہ دلی ،سرد مہری پر والدین سراپا احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق یونین کونسل موہڑہ دہروتی کا ایک وفد جسکی قیادت (ر) صوبیدار محمد رشید ،(ر) صوبیدار میجر محمد سلیم اختر ،حاجی محمد وزیر ،سردار کرامت حسین ،(ر) حوالدار عبدالقیوم ،سردار محمد زاہد خان ،سردار محمد معروف خان ،سردار محمد اکبر خان ،و دیگر کر رہے تھے ۔وفد نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ انٹر سائنس کالج موہڑہ دہروتی کا سال اول کا رزلٹ ساٹھ بچوں میں سے صرف ایک پاس ،غریب والدین سال بھر بچوں کو اس آس پر کالج بھیجتے رہے کہ ان کے بچے قوم کے معماروں کے پاس مستقبل درخشاں بنانے جاتے ہیں ۔مگر کالج کے پرنسپل صاحب کی بے حسی ،مردہ دلی ،سرد مہری ،متزکرہ نتیجہ کی صورت میںسر چڑھ کر بول رہی ہے کہ کالج میں قوم کے معمار نہیں بلکہ قوم کے مسمار بیٹھے ہیں جو قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہیں ۔سالانہ کروڑوں کا بجٹ ڈکاررے ہیں اور کارکگزاری سوال کرتی ہے یہ حرام خوری کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے ۔عوام علاقہ کی نسلوں کا یہ ایسا قتل عام ہے جس کا صرف لہو زمین پر نظر نہیں آتا ۔لیکن یہ فرعون کے بچوں کے قتل عام سے بھی بد تر ہے ایسے ہی کالج کے ماحول سے متعلق شاہد شاعر نے کہا تھا کہ (یوں بچوں کے قتل سے بدنام نہ ہوتا )(فرعون کو گر کالج کی سوجی ہوتی ) وفد نے کہا کہ بچوں کہ والدین سراپا سوال ہیں کہ کالج کی بدحالی کا کوئی پرسان حال ہے ۔مقامی پرنسپل اگر دلچسپی سے کام کریں تو ادارے کی تدریسی اور تعمیری سرگرمیوں یادگار اقدامات کر سکتاہے ۔لیکن ہمارے ادارے کے پرنسپل صاحب ایسی سروس کرتے ہیں کہ صبح ہوتی ہے ،شام ہوتی ہے دن گن گن کے نوکری تمام ہوتی ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved