10:45 am
وفاقی حکومت عدلیہ کےادارےمستحکم کرے ،امتیاز حسین

وفاقی حکومت عدلیہ کےادارےمستحکم کرے ،امتیاز حسین

10:45 am

وفاقی حکومت عدلیہ کےادارےمستحکم کرے ،امتیاز حسین ملک بھر کےوکلاءسپریم کورٹ بار کی جدوجہد میں شرکت کو یقینی بنائیں گے میرپور (نمائندہ اوصاف) آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےسابق جنرل سیکرٹری امتیاز حسین راجہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ کے دو قابل احترام ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس عدل و انصاف کے اداروں سے ’’عدل و انصاف‘‘ کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ یہ بات کافی عرصہ سےمحسوس کی جارہی تھی کہ جسٹس قاجی فائیز عیسیٰ کو بالا طاقتوں کی خواہشات کے مطابق فیصلہ جات صادر نہ کرنے کی بنیاد پر ماضی کی آمرانہ تاریخ کو دہراتے ہوئے عدلیہ پر کنٹرول رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ حکومتی ریفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال میں جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، من پسند ججوں سے من پسند فیصلے کروائے گئے۔ پی سی او ججز لا کر آئین کو روند دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں ملک رو لخت ہوگیا۔ جمہوریت، آئین ، حکومتیں ادارے کمزور ہوگئے اور ملک میں خلفتار بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائیز عیسیٰ کے وہ فیصلہ جات جن سے عام آدمی کا عدلیہ پر اعتماد بڑھا وہی فیصلہ جات ان کے خلاف ریفرنس کی بنیاد بنے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کےادارے کو کمزور کرنے کی بجائے اس کو مستحکم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے عدل و انصاف سے لوگوں کا رہا سہا اعتبار بھی اٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں سلیکٹڈ لوگوں کو بٹھاکر سلیکٹڈ کام لینے کی پالیسی سے ملک سیاسی، معاشی، انتظامی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس سلیکٹڈ پالیسی کا کیا دھرا ہی ہے اور اس بے جا اقدام سے ملک میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے اہل دانش ان ججوں کے خلاف حکومتی اقدام کو جمہوریت کی بے آبروئی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کے منصف مزاج اور ملک سے محبت کرنے والے اہل دانش سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مرحلہ پر خاموشی کو جرم سمجھیں اور اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں آئیں۔ انہوں نے پاکستان سپریم کورٹ بار کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ملک بھر کے وکلاء سپریم کورٹ بار کی جدوجہد میں شرکت کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک ایک کھیتی ہے اور عدل اس کا پاسبان ۔ پاسبان کمزور پڑ جائے تو کھیتی اجڑ جایا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک معاشرے، کنبے، قبیلے صرف اور صرف عدل سے قائم رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی طرف سے ایسے اقدامات جن سے لوگوں کا اداروں سے اعتبار ہی اٹھ جائے ایک سنگین المیہ کے مترادف ہوگا۔ امتیاز حسین

تازہ ترین خبریں