02:18 pm
بااثر قبیلےسےمیرےبچوں کی جان کو خطرہ ہے،صدیق کیانی

بااثر قبیلےسےمیرےبچوں کی جان کو خطرہ ہے،صدیق کیانی

02:18 pm

بااثر قبیلےسےمیرےبچوں کی جان کو خطرہ ہے،صدیق کیانی پندرہ سال سےفاروق حیدر کاووٹرہوں،حکومت انصاف فراہم کرے 20 جون کو فاروق حیدر کےدفتر کےسامنے پوراخاندان اجتماعی خود کشی کریگا ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ) ضلع جہلم ویلی کا گاؤں کٹھائی کاعلاقہ بلوچستان بن گیا ۔اقتدار کے نشے میں چور بااثر قبیلہ کے افراد  کے مظالم کا ستایا خاندان ڈسٹرکٹ پریس کلب پہنچ گیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد حسین کیانی۔رقییہ بیگم۔بیگم نور۔حاجی صدیق کیانی۔ذوالفقار علی کیانی۔عدنان مختیار کیانی۔عثمان مختیار کیانی۔محمد عارف کیانی نے کہا آغا خان فاونڈیشن کا قائم کردہ سکول 2 مئی کو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے جل کر خاکستر ہوگیا ۔موقع پر ڈپٹی کمشنر۔ایس پی پولیس ریسکیو کے ادارے پہنچے انہوں نے اپنی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ کی رپورٹ کی گئی۔16 مئی کو کھٹائی کے بااثر اور علاقے میں اپنی راجگیری کی دھاک بٹھانے والے راجہ ابرار۔نعیم خان۔سیہل خان پسران راجہ مشتاق خان نے تھانہ پولیس چناری میں درخواست جمع کرا دی کہ سکول دس سالہ بچے عثمان مختیار ولد محمد مختیار کیانی نے جلایا ہے ۔تھانہ پولیس چناری کے ہیڈ کانسٹیبل راجہ نواز خان  نے سکول سٹاف کے سامنے دس سالہ معصوم عثمان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔اور باوردی طالب علم کو چوبیس گھنٹے تک پولیس کے لاک اپ حبس بے جا میں  رکھا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیاکہ عثمان کو اس کے والد نے اکسایا تھا کہ سکول کو آگ لگاؤ۔شر پسند عناصر نے بچے کو دھمکا کر موبائل فون پر ویڈیو بھی بنا لی جس میں پولیس کی موجودگی میں بچے نے خوف کے مارے کہا کہ سکول میں نے والد کے کہنے ہر جلایا ہے ۔بچے پر دباؤ ڈالا کہ وہ بیان دے کہ سکول جلانے میں راجہ تجمل اور راجہ یاسر جو ملزمان کے کزنز ہیں، اور ان کی آپس میں عداوت ہے ملوث ہیں  اس کے علاوہ 8 جون کو ابرار مشتاق اور سیہل مشتاق نے دو نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر عدنان مختیار کے گھر پر حملہ کردیا اسلحہ سے لیس ملزمان نے ظاہر صدیق ولد حاجی صدیق  سے پچاس ہزار روپے نقد موبائل فون بھی چوری کیا اور ایک ٹیکسی کار بھی ساتھ لے گے اسلحہ لہراتے ہوئے دھمکی دی کہ یہاں سے نکل جاو ورنہ گولیوں سے چھلنی کردیں گئے ۔عدنان مختیار پر لاتوں گھونسوں کی بارش کی ۔اس غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی اطلاع بذریعہ درخواست ڈپٹی کمشنر راجہ عمران شاہین۔ایس پی پولیس سیدارشد نقوی اور مقامی پولیس اسٹیشن چناری کو دی لیکن راجہ فاروق حیدر۔عثمان حیدر کے تابع انتظامیہ اور پولیس بجائے کارروائی کرنے ہمیں ڈرانے دھمکانے میں مصروف ہے اور ردعمل کے طور پر کہہ رہی ہے کہ آپ کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔ تھانہ پویس چناری کا ایس ایچ او عید منا رہا ہے۔ ایڈیشنل ایس ایچ او کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ تین دن سے لیپہ گیا ہوا۔ ہمارا جینا محال ہو گیا حاجی محمد حسین کیانی نے کہا کہ پندرہ سالوں سے فاروق حیدر کا ووٹر سپوٹر ہوں لیکن ان کی برادری نے زندگی اجیرن بنا دی ہے عرصہ حیات تنگ ہونے سے  نقل مکانی پر مجبور ہیں ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ہمارے بچوں ہماری خواتین کی جانوں کو خطرہ ہے اوباش راستوں میں ناکے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ماؤں بہنوں کے ساتھ گالم گلوچ ان کا وطیرہ بن گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس پاکستان۔جے او سی مری۔چیف سیکرٹری آزادکشمیر۔چیف جسٹس سپریم کورٹ چیف جسٹس ہائیکورٹ ہمیں ظالموں سے نجات دلائیں اور آئی جی پولیس اورصدر آزادکشمیر  ایس ایچ او تھانہ اور  فریق بننے والے اہلکاران تھانہ پولیس چچناری کو جانبداری اور اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی پر ملازمتوں سے برطرف کریں۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو 20 جون کو فاروق حیدر کے دفتر کے سامنے پورا خاندان اجتماعی خود کشی کرے گا اور اس کا ذمہ دارفاروق حیدر کا بیٹا عثمان اور راجپوت قبیلہ کے شرپسند افراد ہوں  گئے۔ بااثر قبیلہ

تازہ ترین خبریں