10:30 am
علاقہ بانڈی سیداں میں زمین سے آگ کے شعلے نکلنے

علاقہ بانڈی سیداں میں زمین سے آگ کے شعلے نکلنے

10:30 am

مظفرآباد (سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی ہدایت پر آزاد جموںوکشمیر یونیورسٹی کے ادارہ علوم ارضی نے آزاد کشمیر کے ضلع ہٹیاں بالا کے نواحی علاقہ بانڈی سیداں میں زمین سے آگ کے شعلے نکلنے ، درختوںکے جلنے اور لاوہ نکلنے پر اپنی تحقیق مکمل کر لی۔ مذکورہ واقعہ زمین کی سطح کے قریب بجلی کے پول کے نیچے درجہ حرارت بڑھنے سے رونما ہوا،جس سے ایک شدید دھماکہ ہوا اور درختوں کو آگ لگی۔ترجمان جامعہ کشمیر کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق جامعہ کشمیر کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد رستم خان اورڈائر یکٹر شعبہ جیالوجی ڈاکٹر خواجہ محمد بشارت نے لاوہ پھٹنے ،آتش فشاں یا زلزلے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کشمیر کے ادارہ علوم
ارضی کی جیالوجیکل ٹیم نے اس جگہ کا جیو فزیکل اور جیالوجیکل سروے کیااور وال کینک گلاس (Volcanic Glass)کے نمونہ جات حاصل کئے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے وال کینک گلاس صرف تین صورتوں میں بنتے ہیںجنکی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں، (1)زیر زمین میگما بننے کی صورت میں،(2)آسمانی بجلی گرنے کے باعث، (3)بجلی کے پول کے نزدیک درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے بھی اس طرح کے وال کینک گلاس سطح زمین پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد رستم خان نے مزید کہا کہ موجودہ جیو فزیکل ، جیالوجیکل اور پٹرالوجیکل تحقیق کے بعدیہ واضح ہو رہا ہے کہ یہ واقع نہ تو زیر زمین میگما کی وجہ سے اور نہ ہی آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے رونما ہوا ۔ یہ صاف موسم میں مورخہ 28جون 2019بوقت 4بجے صبح ایک دھماکے کی صورت میں ہوا،جو زیر زمین بجلی کے پول کے ساتھ درجہ حرارت بڑھنے سے چٹانیں پگھلنے سے اورکچھ وال کینک گلاس سطح زمین پر گیسز کے ساتھ نمودار ہوئے، جس سے یہ دھماکہ ہوا ۔اس طرح اس جگہ کا درجہ حرارت بڑھنے سے کچھ درخت جل گئے اور کچھ خشک ہو گئے۔ تحقیق کے مطابق یہاںزیر زمین میں کوئی بڑے پیمانے پر تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ البتہ پٹروگرافی سے واضح ہو رہا ہے کہ یہ عمل زمین کی سطح کے قریب مری فارمیشن (Muree Formation)کے اندر بجلی کے پول کے نیچے رونما ہوا۔ یہاں زیر زمین میگما وغیرہ کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ چونکہ پاکستان میں کسی بھی جگہ لاوہ سطح زمین پر نہیں آتا اور نہ ہی اسکے کہیں امکانات ہیں، انڈین پلیٹ جس کے اوپر پاکستان، بھارت اور دیگرہمسایہ ممالک واقع ہیں ،یہاں زیادہ تر ٹیکٹا نک ارتھ کوئیک آتے ہیں، جو انڈین اور یوریشن پلیٹوں کے ٹکرائو کی وجہ سے وقع پذیر ہو رہے ہیں اور انہی کی وجہ سے 2500کلو میٹر لمبااور تقریبا 250کلومیٹر چوڑا ہمالیہ پہاڑی سلسلہ معرض وجود میں آیا ، اس علاقے میں تسلسل کے ساتھ ٹیکٹانک ارتھ کوئیک اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات مستقبل میں رہیں گے۔ البتہ آزاد کشمیر میں آتش فشاں کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ ادارہ علوم ارضی کی ٹیم نے وائس چانسلر آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی،ضلع ہٹیاں بالا کی انتظامیہ اور ڈائریکٹر جہلم کیمپس امتیازاحمد اعوان،اورنگزیب جرال،صدر پریس کلب ہٹیاں بالا مرزا اسلم کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے موجودہ واقعے پر ریسرچ میں ہر طرح سے تعاون کیا۔

تازہ ترین خبریں