10:40 am
آج کادن یوم ختم نبوت ویکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا

آج کادن یوم ختم نبوت ویکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا

10:40 am

آج کادن یوم ختم نبوت ویکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا ختم نبوت چوک میں جانور کا مجسمہ نصب کرنے کو قانون کے منافی قراردیا جائے،دینی جماعتیں مظفرآباد( سٹی رپورٹر)آج 12جولائی جمعہ المبارک کو ریاست بھر میں یوم ختم نبوت و یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا۔ختم نبوت چوک چھتر میں یادگار ختم نبوت کے بجائے جانور کے مجسمہ کی تنصیب پر دینی جماعتوں کے ساتھ وکلاء،تاجران اور صحافیوں میں بھی سخت تشویش۔نوٹیفکیشن کے مغائر مجسمہ کی تنصیب نا صرف ختم نبوت سے غداری ہے بلکہ ریاستی رٹ کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔لوکل گورنمنٹ کی طرف سے اس مجسمہ کے نام پر لاکھوں روپے کس مد سے خرچ کیے ہیں۔وزیر بلدیات و دیہی ترقی عوامی مفادات کے بجائے مجسمہ سازی کے لیے خلاف ضابطہ اخراجات کا محاسبہ کریں۔ صدر ریاست،وزیر اعظم آزاد کشمیر،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اس سنگین غلطی پر فوری نوٹس لیں۔عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ۖکے تحفظ کے لیے مسلمان ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق حکومت آزاد کشمیر نے آٹھ فروری 2018کو بزریعہ نوٹیفیکیشن نمبر سروسز /جی۔8(38)/ 2016کو زو الفقار علی بھٹو شہید (نلوچھی برج)سے متصل چوک کو ختم نبوت چوک سے منسوب کرنے کی منظوری صادر فرمائی۔جبکہ وزیر اعظم آزاد ریاست جموں کشمیر کی طرف سے علماء کرام کے وفود کی طرف سے آئین میں بارویں ترمیم کے بعد اسکی یادگا ر کے طور پر ختم نبوت چوک چھتر میں یادگار ختم نبوت تعمیر کرنے کا کے مطالبہ سے اتفاق کرتے ہوئے بزریعہ مکتوب نمبر واس /ش م/۔1(29)2015مورخہ دس اپریل 2018کو سیکرٹری فزیکل و پلانگ کو یادگار ختم نبوت کی تعمیر کے لیے تحت قواعد کاروائی کرنے کا حکم صادر کیا گیا تھا۔وزیراعظم آزاد کشمیر کی طرف سے بزریعہ ضلعی انتظامیہ یہ کہا گیا کہ حکومت خود شاندار چوک تعمیر کرے گی لیکن نامعلوم اور خفیہ ہاتھ نے آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے قادیانیوں کے خلاف بارویں آئینی ترمیم کے شاندار اور تاریخی اقدام اور اس کی یادگار میں ختم نبوت چوک کی تعمیر کے قابل ستائش عمل کو مشکوک بنانے کے لیے ختم نبوت چوک میں جانور کا مجسمہ نصب کر کے پنجاب حکومت کی طرف سے بادشاہی مسجد کے سامنے رنجیت سنگھ کے مجسمہ کی تنصیب کی تائید کردی ہے۔آل جموں کشمیر جے یو آئی کے سابق امیر مفتی اعظم کشمیر مفتی رویس خان ایوبی، امیر مولانا قاضی محمود الحسن اشرف،جنرل سیکرٹری مولانا عبد المالک صدیقی ایڈوکیٹ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کے ناظم عمومی مولانا عادل خورشید،سواد اعظم اہل سنت والجماعت آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری مولانا قاضی منظور الحسن،مولانا عبد المالک انقلابی،تحریک ختم نبوت آزاد کشمیر کے امیر مولانا عبد الوحید قاسمی،ترجمان مولانا مقصود کشمیری،مظفرآباد کے نائب صدر مولانا ضیاء الحق ضیا ء،مولانا مفتی ندیم،قاری محمد ادریس عباسی،سمیت علماء کرام کے وفود نے دار العلوم فاروق اعظم طارق آباد میں منعقدہ اجلاس،سنٹرل پریس کلب میں تقریب بیاد سردار عبد القیوم خان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے ریاست میں آئین اور قانون کے مغایر اقدامات کرنے،عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے قانون کو غیر موثر کرنے کی کوششوں نیز ختم نبوت چوک میں مجسمہ نصب کرنے کو آئین اور قانون اور ملی قدروں کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ختم نبوت چوک میں یادگار ختم نبوت تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے تمام خطبہ کرام اور علماء کرام سے اپیل کی کہ بارہ جولائی جمعہ المبارک کو عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ۖ کے تحفظ کی اہمیت اور اسکے تقاضے کے عنوان پر خطاب کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں