04:09 pm
مجھے ڈھونڈنے کے باجود کوئی ایک کشمیری بھی ایسا نہیں ملا جو بھارتی فیصلےسے خوش ہو

مجھے ڈھونڈنے کے باجود کوئی ایک کشمیری بھی ایسا نہیں ملا جو بھارتی فیصلےسے خوش ہو

04:09 pm

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی صحافی نے پوری دنیا کو زمینی حقائق سے آگاہ کر کے بھارتی پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا ۔اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر میں موجود ایک بھارتی صحافی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بتارہا ہے۔بھارتی صحافی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ میں کشمیر سے کوئی ایک شہری ڈھونڈنے کے لیے کوشاں ہوں جو بھارتی فیصلے کی تائید کر سکے۔
بھارتی صحافی کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس معاملے پر بلکل بھی بھارتی حکومت کے حامی نہیں ہیں،یہاں کے کئی سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔جن میں سابق دو وزیر اعلیٰ اور دیگر سابق وزیر شامل ہیں کیونکہ وہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے۔کشمیر میں سیاست اور بیانیہ اس فیصلے کے بعد ہمیشہ کے لیے بدل چکا ہے۔وہ لوگ جو پہلے بھارتی حکومت کی حمایتی تھے۔جو جموریت کے حمایتی تھے،جنہوں نے ہمیشہ متحدہ ہندوستان کی حمایت کی۔وہ اب بلکل دوسری طرف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے بعد وہ اپنا بیانیہ کھو چکے ہیں وہ اپنی سیاست بھی کھو چکے ہیں۔جب کہ وادی میں رہنے والے عام لوگ بہت برے حالات میں ہیں۔انہیں صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی باہر نکلنے کی اجازت ہے۔یہاں پر انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔بھارتی صحافی مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ نئی دہلی میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ لیکن ایک بار یہ کرفیو ہٹنے دیں پھر کشمیری بتائیں گے کہ ہم کس قدر خوش ہیں۔ کشمیری اس فیصلے پر بہت خوش ہیں لیکن دوسری طرف یہاں پر کرفیو نافذ ہے۔اس حوالے سے ایک بھارتی سیاستدان کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جسے مقبوضہ کشمیر میں وہاں کے لوگوں کے ساتھ خوچگوار ماحول میں دکھایا گیا لیکن بھارتی صحافی نے اسے بھی پبلک سٹنٹ قرار دے دیا اور کہا کہ انہوں نے ویڈیو میں یہ دکھانے کی کوشش کی کہ یہاں پر کوئی کرفیو نافذ نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں