12:39 pm
 آئینی تبدیلیوں سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا،جموں کشمیر محاذ رائے شمار ی کی قرارداد

آئینی تبدیلیوں سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا،جموں کشمیر محاذ رائے شمار ی کی قرارداد

12:39 pm

آئینی تبدیلیوں سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا،جموں کشمیر محاذ رائے شمار ی کی قرارداد میرپور (نمائندہ اوصاف)جموں کشمیر محاذ رائے شمار ی کی مرکزی مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ 72 سالوں اوربالخصوص 05 اگست2019 سے انڈین حکومت کی طرف سے ریاستی باشندگان پر ظلم،تشدد،قتل وغارت کرنے اور کرفیو کے دوران عوام الناس کو خوراک،ادویات اور خاص کر بچوں کے لئے دودھ اور اشیاء ضروریہ کی کمیابی کی مذمت کی گئی اور انسانی اقدار کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا اجلاس کی رائے میں انڈین آئین کے آرٹیکل 370اور35اے کو ختم کرنے سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا کیونکہ مسئلہ کشمیر پر 13اگست1948 کو سلامتی کونسل نے قرارداد ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کی مرضی سے پاس کی اور یہ تحریری اعلان کیا کہ وہ ریاست میں امن بحال ہونے پر رائے شماری کے ذریعے حق خود ارادیت کی بنیاد پر ریاستی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کریں گے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بد نیتی نمایاں ہوتی گئی اور رائے شماری سے راہ فرار اختیار کیا گیا جب کہ 17 نومبر1952 کو انڈین آئین میں آرٹیکل 370 مہاراجہ ہری سنگھ ، بھارتی مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور اسمبلی آف جموں کشمیر کی شرائط پر شامل کیا گیاان شرائط میں دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ آرٹیکل370 کو ختم کرنے کی جب تک اسمبلی ،حکومت اور آئینی سربراہ سفارش نہیں کرتے تب تک یہ آرٹیکل ختم نہیں ہو سکتا لیکن05 اگست2019 کو ہندوستانی حکومت نے یکطرفہ طور پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آرٹیکل 370ختم کر کے سرینگر، جموںاور دیگر علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا جس سے انسانوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی ہیں جموں میں ڈوگروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرینگر میں مردوں اور نوجوانوں کو گرفتار کر کے شہید کیا گیا جب کہ بیٹیوں کو بے آبرو کیا جا رہا ہے محاذ رائے شماری کی مجلس عاملہ انڈیا کے ان تمام اقدامات کی مذمت کرتی ہے اور انہیں انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے بنیا دی انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کی مذمت کر تی ہے اور ادارہ اقوام متحدہ کی بھی مذمت کرتی ہے یہ ادارے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے پر مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آرٹیکل370 کے خاتمہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں کسی قسم کی قدغن نہیں لگائی جا سکتی یہ مسلہ کشمیرمیں شخصی حکومت کے خاتمہ کے لئے جاری تحریک کو یو این او کی اس یقین دھانی پر سیز فائر کی گئی تھی کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا اس لئے یہ مسلہ ابھی تک زندہ ہے عالمی امن کے لئے مسلہ کشمیر کا حل ہونا ضروری ہے اور وہ حل ریاستی عوام کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہونا چاہیئے نہ کہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سے اس کا حل نکالا جائے یہ حل عالمی ادارہ کشمیری عوام سے کنسلٹ کر کے نکالے ریاستی عوام قابض قوتوں پر یقین نہیں رکھتے یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر سے تمام غیر ملکی افواج نکل جائیں اور ریاستی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آزادانہ موقع فراہم کریں ریاستی عوام اپنے بنیادی حق ،حق خود ارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے ریاستی سالمیت اور وحدت پر آنچ نہیں آنے دیں گے یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل ایک یونٹ قائم کیا جائے وہ متحدہ حکومت اپنی آزادی کا اعلان کرے پاکستان،چین اور دیگر دوست ممالک اس حکومت کو فوری طور پر تسلیم کریں جو اقوام عالم اپنا مقدمہ خود پیش کرے پوری ریاست میں ایک قومی ریاست اور حکومت کے قیام کی جدوجہد کرے کسی بھی مذہب کی اجارہ داری دوسرے مذاہب پر نہ ہو بلکہ ہر مذہب کے ما ننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی ہونی چاہیئے یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے تمام قدرتی راستے جلد از جلد کھول دیئے جائیں باشندگان ریاست جموں کشمیر کو لداخ،سرینگر،جموں ،گلگت اور مظفر آباد آنے جانے کی آزادی ہو سیز فائر میں ایسی پابندی نہیں ہے محاذ رائے شماری کا یہ اجلاس یو این او کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خود بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیں بصورت دیگر ہائی اختیاراتی وفد بھیج کر دنیا کو وہاں کے حالات سے آگاہ کریںاجلاس میں محاذ کے بانی رہنما محمد بشیر تبسم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کی وطن عزیز کی آزادی اور بحالی جمہوریت کے لئے کی گئی جدو جہد پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیامرحوم محمد بشیر تبسم بانی صدر محمد عبدالخالق انصاری مرحوم کے دیرینہ ساتھی تھے جو ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ رہے یہ اجلاس مرکزی صدر سید عبدالوحید بخاری کی صدارت میں منعقد ہواجس سے رزا ق عاصی، امین انصاری، ساجد بھٹی، الیاس قریشی، ذخیر انصاری ، ابرار بیگ، اسحٰق جنجوعہ، بنارس حسین اور محمد عظیم دت ، شفیق انصاری، محمد فیاض،ابرار انصاری،انعام الحق طور، بابر بشیر سیالکوٹ سے مبصرین زاہد غنی ڈار اورتحسین بٹ نے بھی خطاب کیا ۔

تازہ ترین خبریں