09:41 am
مال افسر   سبطین کاظمی سے میری اراضی واگزار کروائی جائے،عبدالطیف خان

مال افسر سبطین کاظمی سے میری اراضی واگزار کروائی جائے،عبدالطیف خان

09:41 am

مال افسر سبطین کاظمی سے میری اراضی واگزار کروائی جائے،عبدالطیف خان موصوف نے عارضی راستہ لیکر سیڑھیاں بنا لیں اب سیڑھیوں کی جگہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے باغ (نمائندہ اوصاف )مال افسر نےعارضی راستہ میری زمین سے حاصل کیا اور اس کے اوپر سیڑھیاں بنا دیں ۔ اب میری زمین پر ناجائز قابض ہو گیا۔ ان خیالات کا اظہار چھتر نمبر 2کے رہائشی عبدالطیف خان نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے 1985میں محمد شفع سے دو کنال آٹھ مرلے زمین لی ۔ 1987میں سبطین کاظمی جو اس وقت افسر مال تھا نے مجھ سے عارضی راستہ مانگا جو میں نے عارضی طور پر ان کو دیا ۔ بعد ازاں انہوں نے سیڑھیاں بنا لیں ۔ 1992کے بندوبست میں میری زمین پوری تھی ۔ 1998میں میں نے آٹھ مرلے اور مکان اپنی بیوی فاطم جان کے نام کیا اور ایک کنال 10مرلے اپنے بیٹے محمد مرتضیٰ کو دی ۔ آٹھ اکتوبر 2005کے زلزلہ میں میرا مکان گر گیا اور میری بیوی فاطم جان نے نو مرلے اپنے بیٹے مرتضیٰ کو اور نو مرلے اپنے پوتے کے نام کر لی ۔ میرے بیٹے عارف نے مکان بنایا ۔ سبطین کاظمی نے اپنے باتھ اور مکان کا پانی وہاں سے نیچے کر دیا ۔ عارف کی بیوری بیماری ہوگئی اور وہ راولپنڈی چلا گیا ۔ اب سبطین کاظمی جان بوجھ کر ہماری زمین تباہ کر رہا ہے اور قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ عبدالطیف نے مزید بتایا کہ میں مجاہد اول کا دیرینہ ساتھی ہوں اور اب میں معذور ہو ں اور راولپنڈی سے اپنا علاج بھی کروا رہا ہوں ۔ میں نے اپنی زمین سے جو سبطین کاظمی کو راستہ دیا تھا اب میں سیڑھیاں اکھاڑنا چاہتا ہوں چونکہ یہ شخص احسان فراموش ہے اور ہمیں آئے روز دھمکیاں دیتا ہے اگر میرا کوئی بھی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سبطین کاظمی پر ہو گی۔ میری وزیر اعظم آزاد کشمیر ، کمشنر مال اور باغ انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ اس سے مجھے تحفظ فراہم کیا جائے ۔ عبدالطیف خان