12:42 pm
 محرم الحرام انسانی بیداری و خود داری کا مہینہ ہے، شبیر بخاری

محرم الحرام انسانی بیداری و خود داری کا مہینہ ہے، شبیر بخاری

12:42 pm

محرم الحرام انسانی بیداری و خود داری کا مہینہ ہے، شبیر بخاری علمائے کرام اور ذاکرین محافل و مجالس میں مقاصد قیام امام حسینؑ کو اُجاگر کریں مظفرآباد (سٹی رپورٹر)چیئرمین جعفریہ سپریم کونسل آزادجموں و کشمیرسید شبیر حسین بخاری نے پیغام محرم الحرام میں کہاہے کہ ماہ محرم الحرام تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے۔ ہر ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے قیام کا مہینہ ہے۔ انسانی بیداری و خود داری کا مہینہ ہے۔ فکر انسان کی آزادی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں آزادی و حریت کے علمبردار نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؑ کی قیادت میں اُمت مسلمہ کی ایک قلیل مگر عظیم انسانوں کی جمعیت نے حکومت اسلامی پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے والے فاسق و فاجر حکمران کے خلاف قیام کیا اور روزِ عاشورہ ( ١٠ محر م الحرام 61ھ) سر زمین کربلا(عراق ) میں خدائے وحدہ لاشریک کی آخری شریعت جو شریعت محمدۖی کہلاتی ہے جسے دُنیا دین اسلام کے نام سے پہچانتی ہے کے حقیقی اُصولوں کو اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر بچایا اور ساتھ ہی ساتھ رہتی دُنیا تک کے انسانوں کو یہ پیغام دیا کہ ہر دور کے ظالم و جابر، الٰہی و اسلامی اُصولوں سے انحراف کرنے والے حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرو چاہے تمہاری جمعیت قلیل ہی کیوں نہ ہو اور اس راہ میں ہر طرح کی قربانی دو کیونکہ دین مقدس اسلام کسی فاسق و فاجر اور ظالم و جابر کو ہر گز یہ حق نہیں دیتا کہ وہ حکومت کے کسی بھی منصب پر بیٹھے کیونکہ یہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے اُس کے خالص بندگان (عادل و متقی) کے لئے مخصوص ہے۔ ضروری ہے کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی روز عاشورہ61ھ کو دین اسلام کے حقیقی اُصولوں کو بچانے کی خاطر دی گئی قربانی کو اس کی اصل روح اور مقاصدکے ساتھ عالم انسانیت کے سامنے انتہائی شائستہ اور حکیمانہ انداز میں اُجاگر کیا جائے۔عزاداری سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام کی محافل و مجالس میں علمائے کرام، ذاکرین اور اسکالرز تاریخی شواہد کی روشنی میں مقاصد قیام امام حسین علیہ السلام کو اُجاگر کریں۔ خطابات میں اُمت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیں تا کہ اُمت میں اتفاق و وحدت کو تقویت اور فروغ حاصل ہو۔دیگر اسلامی مسالک کے ایسے علماء کرام اور سکالرز کو مجالس عزاء میں خطاب کی دعوت دی جائے جو اُمت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق، وحدت کے لیے کوشاں ہوں۔بھارتی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 ء سے کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور تقریباً آٹھ لاکھ افواج نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں،جینوا کنونشن معائدات کو پس پشت ڈالتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ و جابرانہ قبضہ کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے پر مظلو م کشمیریوں کی حمایت میں کربلائے کشمیر میں ہونے والے مظالم سے اقوام عالم کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مجالس میں موثر اظہار خیال کیا جائے۔وطن عزیز پاکستان دہشت گردی، فرقہ واریت، لسانیت ، کرپشن، اقرباپروری سمیت طرح طرح کی برائیوں اور خطرات کی زد میں ہے۔لہذاخطیب حضرات ان برائیوں کی پر زور علمی انداز میں مذمت کریں اور وطن کی سلامتی اور استحکام سے متعلق اہل وطن کو ان کے شرعی فریضہ سے آگاہ کریں۔حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی جانب سے مضبوط و مستحکم اورخوشحال پاکستان اور کشمیر بارے دوٹوک موقف کو سراہتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا جائے نیز لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی نہ صرف پرزور مذمت کی جائے بلکہ بھارت کو یہ پیغام بھی دیا جائے کہ ہم بھارتی جارحیت کے خلاف قربانیاں دینے کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ملت جعفریہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد جن کے خلاف بے بنیاد اور خلاف قانون مقدمات قائم کیئے گئے یا سزائیں دی گئی ہیں ان کے خاتمے کے لیے دردمندانہ اپیل کی جائے۔جہاں جہاں مسلمانوں اور انسانیت پر ظلم ہو رہا ہے کی بھی مذمت کی جائے۔لائوڈ سپیکر/سائونڈ سسٹم کے استعمال کے بارہ میں قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔مجالس عزاء کے بروقت آغاز اور اختتام کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔ جلو س ہا عزا ء میں انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جائے اورغیر ضروری تاخیر اور اندھیرے میں ٹھہرائو سے اجتناب برتا جائے۔ شبیر بخاری

تازہ ترین خبریں