12:09 pm
 27اکتوبر  کا مارچ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے،راجہ ضمیر

27اکتوبر کا مارچ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے،راجہ ضمیر

12:09 pm

27اکتوبر کا مارچ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے،راجہ ضمیر کشمیری 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں ، اسی دن انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کیا تھا مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما وسابق معاون خصوصی ہمراہ وزیراعظم کرنل(ر)راجہ محمد ضمیرخان نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی قیادت کو اس وقت اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر تحریک آزادی کشمیر کو فوقیت دینی چاہیے۔اسمبلی میں لیڈر شپ کے رویے کو دیکھ کر پاکستانی اور کشمیری عوام کو شدید دکھ ہوتا ہے۔27اکتوبر 1947ء کو انڈیا نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا۔ہر سال 27اکتوبر کو کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں لیکن 27اکتوبر کو ہی مولانا فضل الرحمن کا مارچ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی اور پیٹ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔مولانا فضل الرحمٰن برسوں تک کشمیری کمیٹی کے چیئرمین رہے وہ بتائیں کہ انہوں نے کشمیریوں اور تحریک آزادی کے لیے کیا کیا ہے۔آج پوری دنیا کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے تو یہ موصوف تحریک کو نقصان پہنچانے کے لیے آزادی مارچ کررہے ہیں مولانا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کے اس اقدام سے پاکستان اور کشمیری عوام کے دلوں میں نفرت پیدا ہوگی۔ایک وقت آئے گا کہ کشمیر آزاد ہوجائے گا لیکن یہ جماعت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی۔پاکستان کی بڑی جماعتوں کے ویژن اور سوچ کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ کسی نے 72سالوں میں کشمیر ایشو کو سنجیدہ طریقے سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔آج جب کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور جب یہ مسئلہ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے جارہاتھا تو پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن،اے این پی اور جمعیت علماء اسلام نے جان بوجھ کر ایک منصوبے کے تحت مسئلہ کشمیر کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔اسمبلی میں بیٹھے ان لوگو ں کی سوجھ بوجھ اور لڑائی جھگڑے دیکھ کر کشمیری عوام خون کے آنسو روتے ہیں اور ان کے اس رویے کی وجہ سے مودی کو تقویت مل رہی ہے ۔اسمبلی کا جھجال پورہ اپنا رویہ بدلے اور کشمیری عوام کا ان کی جدوجہد آزادی میں ساتھ دیں نہیں تو ایک وقت آئے گا کہ انڈیا پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں پر ڈیم بناکر پانی بند کردے گا۔دریائوں کا رخ بدل دے گا تو پاکستانی عوام پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔پنجاب،سندھ اور سرحد کے لہلہاتے کھیت سحرا میں بدل جائیں گے اور ان کی نسلیں اس لیڈر شپ کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ پوری لیڈر شپ ایک ہوکر کشمیریوں کا ساتھ دے۔قائد اعظم نے ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔لیڈر شپ جاگے اور اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں۔کرنل(ر)راجہ محمد ضمیر خان نے کہا کہ ایک انٹرویو کے دوران میری موجودگی میں مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود مرحوم نے کہا کہ ہم نے پاکستان بنتے وقت مخالفت کی لیکن جب پاکستان بن گیا تو اس کی حفاظت ،اس کے ساتھ وفاداری ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے والد کی جماعت پر قبضہ تو کرلیا اب ان کے نظریے کو بھی آگے لے کر چلیں۔مسئلہ کشمیر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔پاکستانی لیڈر شپ کو کشمیریوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے ایک آواز میں بھارت کو للکارنا ہوگا۔ راجہ ضمیر

تازہ ترین خبریں