12:26 pm
 ملت اسلامیہ مقبوضہ کشمیر  میں کرفیو ختم کروائے ،زاہد صفی

ملت اسلامیہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کروائے ،زاہد صفی

12:26 pm

ملت اسلامیہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کروائے ،زاہد صفی لاکھوں مسلمان بانوے دن سےبھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں کوٹلی (سٹی رپورٹر)آل جموں و کشمیرحریت کانفرنس کے رہنماؤں زاہد صفی اور عبدالمجید ملک نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمان گزشتہ بانوے روز سے بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں ۔ ملت اسلامیہ خاموش تماشائی نہ بنے ۔پاکستان و آزاد کشمیر کی حکومتیں، اپوزیشن جماعتیں اور سیاستدان متحد ہو کر پوری قوت سے سفارتی تحریک چلائیں۔اسلام آباد دھرنے نے جاری سفارتی تحریک کو نقصان پہنچایا ۔ بھارت کے حالیہ اقدامات سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافہ ہوا ۔ اب بھارت نواز بھی تحریک آزادی میں شریک ہوچکے ہیں ۔ پاکستان و آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں اور شہادتوں کی لاج رکھتے ہوئے اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کریں ۔ ان خیالات کا اظہارانھوں نے دورہ کوٹلی کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ موودی آر ایس ایس کا رکن اور ہندو تو نظرئیے کا پیروکار ہے ۔ اس نے سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کر کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا ۔ اور وہاں ہندوآباد کاری شروع کروا دی ۔ محبوس مسلمان بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں ۔احتجاج کرنیوالوں کو شہید کیا جا رہا ہے ۔ بھارت ان ہتھکنڈوں کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے ۔ریاستی ادارے ختم کرکے اور ریاست کی حیثیت ختم کر کے ریاست کو بھارت کا حصہ بنا دیا ہے ۔ مگر بھارت کے ان جابرانہ ہتھکنڈوں سے تحریک آزادی کم نہیں ہوئی ، بلکہ بھارت نواز جماعتیں بھی تحریک آزادی میں شامل ہو چکی ہیں ۔ اب ریاست کا ہر شہری بھارت سے آزادی چاہتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہمت و حوصلے کے ساتھ بھاری قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ اور مغربی اقوام اس بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں جس نے اپنے شہریوں پرمذہبی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ جو اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا غاصب ہے ۔امت مسلمہ خاموش تماشائی نہ بنے ۔ اپنا کردار ادا کرے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی بھرپور وکالت کی ۔ ان کی تقریر پر کشمیری کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے ۔ لیکن وہاں سے واپسی پر انھیں چپ لگ گئی ۔ مسئلہ کشمیر اسوقت عالمی میڈیا پر زیر بحث تھا ۔ مگر اسلام آباد دھرنے نے ملکی و غیر ملکی میڈیا اور دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی جس سے کشمیر کی جاری سفارتی تحریک کو نقصان پہنچا ۔ اور تسلسل ٹوٹ گیا ۔ یہ افسوسناک امر ہے ۔ فاروق حیدر بھی چند دن روئے پھر خاموش ہو گے ۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران بھارتی اقدامات پر جو کردار پاکستان و آزاد کشمیر کی حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کا بنتا تھا وہ ادا نہیں کیا گیا ۔لیکن پھر بھی کشمیری مایوس نہیں ہیں ۔ جتنی قربانیاں مقبوضہ کشمیرکے عوام نے دی ہیں ۔ اتنی ہی لائن آف کنٹرول کے لوگ دے رہے ہیں ۔پاکستان و آزاد کشمیر کی عوام بھی تحریک آزادی سے مخلص ہیں ۔ پاکستان و آزاد کشمیر کی حکومتیں ، اپوزیشن اور سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں کشمیریوں کی قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے پوری یکسوئی کے ساتھ مشترکہ متفقہ اور بھرپور سفارتی تحریک چلائیں ۔ زاہد صفی

تازہ ترین خبریں