تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

حکومت نے آخر کار ہار مان لی ۔۔ دھرنا مظاہرین کے حوالے سے وہ خبر آگئی جس کا پورے ملک کو بے صبری سے انتظار تھا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت نے آخر کار ہار مان لی ۔۔ دھرنا مظاہرین کے حوالے سے وہ خبر آگئی جس کا پورے ملک کو بے صبری سے انتظار تھا ۔۔ وفاقی حکومت نے احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کا آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا، احتجاجی مظاہرین سے پہلے مرحلے میں آپریشن کی بجائے مذاکرات کیے جائیں گے، حکومت نے مذاکرات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم عمران خان خود کریں گے،کمیٹی کے ارکان احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیلئے لاہور سمیت بڑے شہروں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس

کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے توہین رسالت ﷺکیس میں آسیہ بی بی کی رہائی کے بعدملک بھر میں اٹھنے والی شدید احتجاج کی لہر کے پیش نظر قوم سے خطاب کیا اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کی رٹ کو ہرحال میں یقینی بنایا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرین کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے جائیں گے ، کسی بھی جگہ پر نہ کاروبار بند ہوگا اور نہ ہی سڑکیں بلاک کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر ایسا کیا گیا تو سختی سے نمٹا جائے گا۔تاہم آج حکومت نے براہ راست آپریشن کی بجائے احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ پانچ رکنی کمیٹی میں وزیراطلاعات فواد چودھری ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرمملکت برائے داخلہ، وزیرمذہبی امور پیر نورالحق اوروزیرخوراک محبوب سلطان شامل ہیں ۔وزیراعظم نے معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کیلئے مذاکراتی ٹیم کی منظوری دے دی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مذاکراتی عمل کی نگرانی خود کریں گے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے واضح کہا کہ آج میں آپ کے سامنے صرف اس لئے آیا ہوں کہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا ہے اور اس فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے رد عمل دیا ہے جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے میں آپ سے بات چیت کیلئے مجبور ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پہلے ایک چیز سمجھ جائیں کہ پاکستان دنیا کی تاریخ کا واحد وہ ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسلام کے نام پربننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون قر آن و سنت کے خلاف نہیں اور سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کا آئین قرآن اور سنت کے تابع ہے۔ سپریم کور ٹ کے فیصلے کے بعد جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ پاکستان کے سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ وہ فیصلہ کے بعد واجب القتل ہیں۔ یہ کہنا ہے پاکستان کے آرمی چیف غیر مسلم ہیں اور فوجیوں اور جنرلز کو کہا جارہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کریں۔ عمران خان نے کہا کہ میں بار بار کہہ بیٹھا ہوں کہ پاکستان انشاء اللہ ایک عظیم ملک بنے گا لیکن پاکستان عظیم ملک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر بنے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے عملی طورپر وہ کام کیا ہے جو آج تک کسی پاکستان کی حکومت کام نہیں کیا

۔ انہوں نے کہا کہ جب ہالینڈ کے ڈ چ پارلیمنٹرین نے ہمارے نبیؐ کی شان گستاخی کی اور خاکے نکالے تو پاکستان واحد مسلمان ملک تھا جس نے احتجاج کیا اور اس ملک کے وزیر خارجہ سے بات کی جس کے بعد ڈچ پارلیمنٹرین کے خاکے ود ڈرا کرائے گئے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کسی صورت ہم ان کو لوگوں کو اکسانے نہیں دینگے یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہے۔ یہ ملک سے دشمنی ہورہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملک دشمن عناصر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ججز کو قتل کر دیں۔ فوج میں بغاوت ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج نے ملک کو دہشتگردی کی جنگ سے نکالا ہے۔ پاک فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے کہ آرمی چیف مسلمان نہیں ہیں۔ ایسی حرکتوں سے ملک دشمنوں کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان ہوگا۔ یہ اسلام کی خدمت نہیں کررہے ہیں۔ یہ ووٹ بینک بڑھانے کیلئے سب کچھ کررہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے نہ ٹکرائیں۔ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کرینگے کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دینگے اور ریاست کو کسی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے،ہم صرف باتیں نہیں عملی کام کرتے ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved