تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

حکومتی ایوان خیبر پختونخوا کی کارکردگی پرتنقید شہباز شریف کی تعریفیں ، چونکا دینے والی خبر


اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں چاروں صوبوں میں آئی ٹی کے شعبے میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جس میں پنجاب میں آئی ٹی کے شعبے میں نمایاں کارکردگی کو سراہا گیا جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دعوؤں کے برعکس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا، سندھ اور بلوچستان نے آئی ٹی میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں میں تا حال آئی ٹی بورڈ ہی تشکیل نہیں دیے جا سکے پنجاب آئی ٹی میں ترقی کیلئے بلامعاضہ تعاون کرے۔کمیٹی چیئرمین روبینہ خالد اور رکن سینیٹر رحمن ملک نے آئی ٹی شعبے میں نمایا ں کارکردگی دکھانے پر پنجاب حکومت کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر شہباز

شریف نے پنجاب میں آئی ٹی شعبے میں بہت کام کیا جس پر انہیں مبارک باد دیتے ہیں، پوری دنیا کا مستقبل فری لانسنگ سے جڑا ہے، موجودہ حکومت ملک میں فری لانسنگ کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرے ۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوگی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹر عتیق شیخ، سینیٹر تاج محمد خان آفریدی،ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈائرکٹر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ،اور چاروں صوبوں کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام نے شرکت کی۔ڈی جی پنجاب آئی ٹی بورڈ (پی آئی ٹی بی)نے کمیٹی کو پنجاب میں آئی ٹی کی ترقی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب آئی ٹی بورڈ نے صحت،تعلیم، امن و انصاف، ای گورننس، زراعت، ای سٹامپ، اور دیگر شعبوں میں ریکارڈ کام کیا گیا ہے۔پی آئی ٹی بی نے اب تک 1400منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، 15منصوبے باقی صوبوں کیلئے بھی مکمل کیے گئے جبکہ 7منصوبے بین الاقوامی اداروں کیلئے بنا کر مکمل کیے گئے ہیں۔ ہسپتالوں، سکولز اوع سرکاری اداروں میں بائیومیٹرک نظام کا نظام بنایا گیا ہے۔پنجاب کے تھانوں کو ڈیجیٹل کیا اور سکولز کی درسی کتب کو آن لائن مہیا کر رہے ہیں۔پنجاب کی تمام وزارتوں اور اداروں کو آن لائن نظام سء منسلک کر رہے ہیں۔تمام اعلیٰ افسران کا وقت بچانے کیلئے اداروں کو ویڈیو کانفرنس نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے ٹائم بچ رہا ہے اور حکومت کے29کروڑ روپے کی

بچت کی گئی ہے۔ زرعی اراضی کلا ریکارڈ آن لائن کر دیا ہے اور سٹامپ بھی آن لائن جاری کیے جا رہے ہیں جس سے جعل سازی میں کمی آئے گی۔2017 میں ای سٹامپ سے 98.9ارب روپے وصول کیے گئے جو پہلے ادوار سے بہت زیادہ ہیں۔ای روزگار پروگرام کے تحت ہر سال 10ہزار نوجوانوں کو فری لانسنگ کے جدید کورسز کرائے جا رہے ہیں جس سے وہ اپنا روزگار کر رہے ہیں۔اب تک ان فری لانسرز نے5لاکھ ڈالرز کمائے ہیں جو ملک کیلئے فائدہ مند ہے اور بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آرہی ہے۔کمیٹی ارکان نے پی آئی ٹی بی کی 5سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے آئی ٹی کے نظام سے دوسرے صوبے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پنجاب دوسرے صوبوں کیلئے آئی ٹی میں بھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرے۔پی آئی ٹی بی نے پنجاب میں ورلڈ بینک کی مدد سے بہت اچھے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ پی آئی ٹی بی صوبے میں آئی ٹی میں جدت لانے کیلئے شاباش و خراج تحسین کا مستحق ہے۔ہماری شاباش اگر شہباز شریف کو جاتی ہے تو ضرور جانین چاہیے۔ہماری خواہش ہے کہ پنجاب آئی ٹی میں ترقی کرنے کیلئے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی معاونت کرے۔ای گورننس کو مکمل طور پر فول پروف بنایا جائے تاکہ کوئی اس کو ہیک نہ کر سکے۔فری لانسنگ سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے ، پاکستان میں پے پام کا نظام متعارف کرانا چاہیے تاکہ فری لانسرز کو ان کی کمائی آسانی سے مل سکے۔بلوچستان کے محکمہ سائنس کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی کے باعث ابھی تک آئی ٹی میں زیادہ ترقی نہیں ہوئی۔ صوبے میں کوئی آئی ٹی بورڈ نہیں ہے۔ پنجاب آئی ٹی میں ترقی کیلئے بلوچستان کی معانت کرے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ چاروں صونے اور این آئی ٹی بی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جدت لانے کیلئے ایک دوسرے کی معانت کریں۔خیبر پختونخوا کے آئی ٹی بورڈ کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خے پی کے میں 2017میں ای روزگار پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت 40ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھائیں گے۔اسلام آباد کے ساتھ کے پی کی حدود میں ڈیجیٹل شہر بسانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ اس پر کمیٹی اراکان نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ اتنا ترقی یافتہ نہیں کہ ڈیجیٹل سٹی بنانے لگ جائیں۔ عوام کو کے پی میں آئی ٹی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا۔بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ایک مرکزی پورٹل بنایا جائے کمیٹی کا خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل شہر بسانے کے منصوبے بنان کی بجائے پنجاب کی طرز پر چھوٹے چھوٹے منصوبے بنائے جائیں




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved